وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کی عالمی اسٹیک ہولڈرز کو اپریل 2026 میں منعقد ہونے والے پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم میں شرکت کی دعوت

6

 اسلام آباد۔17جنوری  :وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے عالمی اسٹیک ہولڈرز کو اپریل 2026 میں منعقد ہونے والے پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے اس فورم کو سرمایہ کاری، تعاون اور پالیسی مکالمے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم قرار دیا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ریاض میں منعقدہ فیوچر منرلز فورم (ایف ایم ایف) میں گفتگو کے دوران کیا۔وفاقی وزیر نے فورم میں پاکستان کی نمائندگی کی جہاں انہوں نے اعلیٰ سطحی مباحثے میں شرکت کرتے ہوئے دنیا کے سامنے پاکستان کے بے پناہ معدنی وسائل کی صلاحیت کو اجاگر کیا۔ایف ایم ایف کے موقع پر وفاقی وزیر نے متعدد اعلیٰ سطحی دوطرفہ ملاقاتیں کیں جن میں سعودی عرب کے وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان آل سعود سے ملاقات شامل تھی۔ ملاقات میں توانائی کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیاجس میں پیٹرولیم کی فراہمی، قابلِ تجدید توانائی، توانائی کی افادیت اور سرمایہ کاری کے مواقع شامل تھے۔وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے سعودی عرب کے وزیر سرمایہ کاری انجینئر خالد الفالح سے بھی ملاقات کی جس میں پاکستان کے توانائی اور معدنیات کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے بہاو ¿ میں اضافے اور شراکت داریوں کو سہل بنانے پر گفتگو ہوئی۔ اس کے علاوہ انہوں نے انٹرنیشنل انرجی فورم کے سیکرٹری جنرل جاسم الشیراوی، میٹسو کارپوریشن کے سی ای او سامی ٹکالوما، ڈیلٹا آئل کے چیئرمین بدر العیبان، سعودی ایگزم بینک کے سی ای او انجینئر سعد الخالب سے بھی ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کے دوران باہمی تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وفاقی وزیر نے ایک نمایاں وزارتی پینل میں شرکت کی جس کا عنوان ”ایک عالمی مقصد کا آغازمعدنیات کی فراہمی کو فروغ دینے میں حکومتوں کا کردار “ تھا جس کی میزبانی سی این این کی اینکر اور نامہ نگار ایلینی جیوکوس نے کی۔ اس پینل میں سعودی عرب کے وزیر صنعت و معدنی وسائل بندر الخریّف، مراکش کی وزیر برائے توانائی منتقلی و پائیدار ترقی لیلیٰ بن علی، موریطانیہ کے وزیر کان کنی و صنعت تیام تدجانی، چلی کی وزیرِ کان کنی اورورا ولیمز باو ¿سااور کینیڈا کی وزارتِ توانائی و قدرتی وسائل کے پارلیمانی سیکرٹری کلاڈ گوئے شامل تھے۔گفتگو کے دوران وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے اس امر پر زور دیا کہ حکومتِ پاکستان معدنی شعبے میں ضابطہ جاتی ماحول کو سادہ بنا کر اور فریم ورک کو ہم آہنگ کر کے نظام کی رکاوٹوں کو کم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان متنوع اور وسیع معدنی وسائل کا حامل ہے جو عالمی شراکت داریوں کے لیے نمایاں مواقع فراہم کرتے ہیں۔ پینل نے پاکستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اسے ایک ابھرتی ہوئی اور پ ±رکشش معدنی منزل قرار دیا۔ایلینی جیوکوس نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں موجود بے پناہ صلاحیت کے باعث دنیاپاکستان کے دروازے پر دستک دے رہی ہے تاکہ معدنی وسائل حاصل کیے جا سکیں جو بڑھتی ہوئی عالمی دلچسپی کی عکاسی کرتا ہے۔وفاقی وزیر نے عالمی اسٹیک ہولڈرز کو اپریل 2026 میں منعقد ہونے والے پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم میں شرکت کی باضابطہ دعوت دی اور اسے سرمایہ کاری، تعاون اور پالیسی مکالمے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم قرار دیا۔اس کے علاوہ وفاقی وزیر نے ایف ایم ایف کی وزارتی گول میز کانفرنس ”عالمی مقصد کا آغاز ترقی کے نئے دور کے لیے معدنیات“ میں بھی شرکت کی جس میں 100 ممالک کے نمائندے شریک تھے۔فیوچر منرلز فورم میں پاکستان کی موجودگی کو پاکستان پویلین کے ذریعے مزید تقویت ملی جس کا عنوان ” پاکستان دی منرل مارویل“ تھا۔ اس پویلین میں نیشنل منرلز ڈیٹا سینٹر (این ایم ڈی سی) کے لائیو ڈیمونسٹریشنز پیش کی گئیں جو پاکستان کے معدنی شعبے کی جدید کاری میں مرکزی حیثیت رکھنے والا ایک جدید ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے۔ شرکائ نے جدید انٹرایکٹو نمائشوں میں گہری دلچسپی لی جن میں تھری ڈی جیولوجیکل ماڈلنگ، ہائی ریزولوشن جی آئی ایس میپنگ، اور پاکستان کے معدنی وسائل سے مالا مال علاقوں کی ریئل ٹائم ڈیٹا ویڑولائزیشن شامل تھی۔ پاکستان نے اپنے معدنی وسائل پر مبنی 90 منٹ پر مشتمل کنٹری شوکیس سیشن بھی منعقد کیا جس میں بڑی تعداد میں شرکائ نے شرکت کی۔ اس سیشن کے دوران وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے اہم معدنیات کے حوالے سے پاکستان کے اسٹریٹجک وڑن کو پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کاروبار کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور حکومتِ پاکستان سرمایہ کاروں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہےتاکہ عالمی سطح پر برقی توانائی کی منتقلی کے عمل میں معاونت کے لیے اس صلاحیت سے بھرپور استفادہ کیا جا سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ ریکوڈک محض ایک منصوبہ نہیں بلکہ ایک معیار (بینچ مارک) ہے جو کان کنی کے شعبے میں نئے معیارات قائم کرے گااور بتایا کہ رواں سال پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم کا موضوع ”بیانڈ ریکو ڈیک“ ہوگا۔ اس موقع پر معدنی وسائل کے نائب وزیر جناب عبدالرحمن البلوشی بھی موجود تھے۔فیوچر منرلز فورم میں پاکستان کی فعال شرکت نے ذمہ دارانہ معدنی ترقی، عالمی تعاون اور سرمایہ کاری پر مبنی ترقی کے لیے حکومتِ پاکستان کے عزم کی توثیق کی اور پاکستان کو مستقبل کی عالمی معدنی ضروریات پوری کرنے میں ایک اہم شراکت دار کے طور پر پیش کیا۔

Comments are closed.