اہم خبریںبین الاقوامی

طالبان پر اقتصادی پابندیاں نہیں ہٹائیں گے : امریکا

واشنگٹن، کابل : امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن نے واضح کیا کہ طالبان پر عائد اقتصادی پابندیاں نہیں ہٹائیں گے تاہم انسانی ہمدردی کی بنیاد پر افغان شہریوں کی مالی امداد کو یقینی بنایا جائے گا،سینیٹ میں ارکان کے سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے انہوں نے کہا رواں مالی سال افغان شہریوں کو 33 کروڑ ڈالر کی مالی امداد فراہم کی جائے گی اور یہ اعانت افغان شہریوں کو طالبان کے ذریعے نہیں بلکہ براہ راست پہنچانے کے انتظامات کیے ہیں، مالی امداد میں اضافے سے صحت اور غذا کی ضروریات پوری کی جاسکیں گی جبکہ خواتین، بچوں اور اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔دریں اثنا امریکا نے دہشت گرد تنظیم القاعدہ کی جانب سے امریکا پر جلد حملے کے خدشے کا اظہار کردیا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سکیورٹی سمٹ سے خطاب کے دوران امریکا کی ڈائریکٹر ڈیفنس انٹیلی جنس ارویل ہینس کا کہنا تھا کہ القاعدہ جلد امریکا پرایک حملہ کرے گا، ارویل ہینس کا کہنا تھا کہ افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد القاعدہ کاخطرہ بڑھ گیا، القاعدہ کو امریکا پر حملے کی صلاحیت حاصل کرنے میں ایک سے دوسال لگیں گے ،انھوں نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کو مانیٹر کرنے کی امریکی صلاحیت کم ہوگئی ہے ، دوبارہ رسائی کیلئے راستے تلاش کررہے ہیں،دوسری جانب ڈپٹی ڈائریکٹر سی آئی اے ڈیوڈ کوہن نے بھی دہشت گردی کے خطرات بڑھنے کااشارہ کردیا،ان کا کہنا تھا کہ امریکا پر آئندہ چند سالوں میں القاعدہ کے علاوہ داعش خراساں بھی حملے کرسکتی ہے ۔دوسری جانب طالبان کے انٹیلی جنس سربراہ حاجی نجیب اللہ ہارون نے شمالی صوبہ قندوز میں مقامی سطح پر داعش سے وابستہ عسکریت پسندوں کی موجودگی سے متعلق رپورٹس کو من گھڑت اور بے بنیاد قرار دیا ہے ۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button