صوبائی وزیر تعلیم غلام شہزاد آغا نے صوبائی وزراء دلشاد بانو، ثریا زمان اور معاون خصوصی برائے اطلاعات ایمان شاہ کے ہمراہ میڈیا بریفنگ میں کہا ہے کہ اساتذہ کے احتجاج کے تناظر میں ان کے ایک نکاتی مطالبے کے حل کیلئے خود ان کی ڈیمانڈ پر کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں

23

گلگت- صوبائی وزیر تعلیم غلام شہزاد آغا نے صوبائی وزراء دلشاد بانو، ثریا زمان اور معاون خصوصی برائے اطلاعات ایمان شاہ کے ہمراہ میڈیا بریفنگ میں کہا ہے کہ اساتذہ کے احتجاج کے تناظر میں ان کے ایک نکاتی مطالبے کے حل کیلئے خود ان کی ڈیمانڈ پر کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں اور مسئلے کے مستقل حل کیلئے سنجیدگی سے کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ گریڈ 16 کی محدود آسامیاں موجود ہیں،بلتستان میں ایک اور گلگت ریجن میں صرف دو پوسٹیں،جبکہ چار ہزار سے زائد اساتذہ پرموشن کے منتظر ہیں، لہٰذا یہ مسئلہ فوری حل نہیں ہوسکتا اور وقت درکار ہے۔وزیر تعلیم نے اساتذہ سے گزارش کی کہ وہ احتجاج ختم کرکے تدریسی عمل بحال کریں کیونکہ اس کی وجہ سے تعلیمی نظام متاثر ہورہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ غیر حاضری پر تنخواہوں میں کٹوتی کی جائے گی جبکہ جعلی ڈگریوں کی جانچ کے لیے بھی کمیٹی اساتذہ کے مطالبے پر بنائی گئی ہے۔
معاون خصوصی ایمان شاہ نے کہا کہ حکومتی کمیٹی اور اساتذہ کے درمیان کئی اہم اجلاس منعقد ہوئے، تاہم اساتذہ کی جانب سے کوئی لچک نہیں دکھائی گئی اور تمام بات چیت کے دروازے انہوں نے خود بند کیے۔حکومت نے اساتذہ کے احتجاج کو ان کا جمہوری حق تسلیم کیا ہے اور کسی قسم کی انتقامی کارروائی نہیں کی گئی، تاہم اب ضروری ہے کہ اساتذہ تعلیمی عمل کو متاثر نہ کریں اور حکومت کے ساتھ تعمیری انداز میں تعاون کریں۔

Comments are closed.