ڈی ایچ او واشک کی مبینہ کرپشن، سرکاری ادویات مارکیٹ میں فروخت؟
عسکر انٹرنیشنل رپورٹ
واشک | 16 جنوری 2026
واشک میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) کے کروڑوں روپے مالیت کی سرکاری ادویات فروخت کرنے کے مبینہ اسکینڈل نے بلوچستان کے سرکاری صحت نظام میں سنگین خامیوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، اگر ایک چھوٹے ضلع واشک میں کروڑوں روپے کی ادویات فراہم کی جاتی ہیں، تو خضدار جیسے بڑے اور تدریسی ہسپتالوں کے لیے مختص مقدار کتنی ہوگی اور وہ کہاں جاتی ہیں؟ خضدار ٹیچنگ ہسپتال کے مریض اور ان کے لواحقین کا کہنا ہے کہ وارڈز اور ایمرجنسی میں بنیادی ادویات، سرنج، پٹیاں اور دیگر ضروری اشیاء دستیاب نہیں ہیں، جس کی وجہ سے مریضوں کو علاج کے لیے باہر سے ادویات خریدنی پڑتی ہیں۔
واشک میں مبینہ اسکینڈل کے بعد عوامی حلقوں میں یہ رائے زور پکڑ رہی ہے کہ مسئلہ ادویات کی عدم فراہمی کا نہیں بلکہ بدعنوانی اور ناقص نگرانی کا ہے۔ یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ خضدار ٹیچنگ ہسپتال کے لیے مختص ادویات کا کوٹہ بھی طویل عرصے سے خردبرد کا شکار رہا ہے۔
عوام نے صوبائی حکومت، محکمہ صحت بلوچستان اور اعلیٰ احتسابی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ خضدار ٹیچنگ ہسپتال سمیت صوبے کے دیگر سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی فراہمی، اسٹورز اور استعمال کا فوری اور شفاف آڈٹ کرایا جائے، اور واشک اسکینڈل کی طرح خضدار میں بھی تحقیقات کرکے ذمہ دار عناصر کو بے نقاب کیا جائے۔
عوام کا کہنا ہے کہ صحت کا حساس شعبہ بدعنوانی کی نذر ہو جائے تو اس کا براہِ راست خمیازہ عام شہری کو بھگتنا پڑتا ہے، جو اپنے ٹیکس سے یہ نظام چلاتا ہے اور مشکل وقت میں سرکاری ہسپتال سے امیدیں وابستہ کرتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکام کب اور کیا عملی اقدامات کرتے ہیں یا یہ معاملہ بھی دیگر اسکینڈلز کی طرح وقت کی گرد میں دب کر رہ جائے گا۔
Comments are closed.