بانی پی ٹی آئی کے وزیر اعظم محمد شہباز شریف پر لگائے گئے الزامات جھوٹے ہیں ، عطائ اللہ تارڑ

18

لاہور۔15نومبر :وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطائ اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمرا ن خان کے وزیر اعظم محمد شہباز شریف پر لگائے گئے الزامات جھوٹے اور من گھڑت ہیں، بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ بشری بی بی حکومتی معاملات پر اثرانداز ہوتی تھیں اور “روحانیت کی بنیاد پر فیصلے” کیے جاتے تھے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے ہفتہ کے روز یہاں جوڈیشل کمپلیکس میں بانی پی ٹی آئی کے خلاف زیر سماعت ہتک عزت کیس کی کارروائی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے وزیراعظم محمد شہباز شریف پر جھوٹا الزام عائد کیا تھا،آج میں عدالت پیش ہوا اور پی ٹی آئی کے وکیل کے تمام سوالوں کا جواب دیا۔عطائ اللہ تارڑ نے بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے 2017 ءمیں بانی پی ٹی آئی کے خلاف ہتک عزت کا دعوی دائر کیا تھا، یہ دعوی اس وقت کیا گیا جب بانی پی ٹی آئی نے پانامہ کیس واپس لینے کے لیے شہباز شریف پر دس ارب روپے کی پیشکش کا بے بنیاد الزام لگایا۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ یہ جھوٹا دعوی اور من گھڑت پراپیگنڈا اس وقت ملک کے تمام بڑے اخبارات میں شائع ہوا تھا،الیکٹرانک میڈیا پر پروگرام بھی ہوئے تھے لیکن اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ انہوں نے زور دیا کہ بانی پی ٹی آئی نے یہ الزام ہر فورم پر دہرایا حالانکہ ان کا پورا نظام جھوٹ، بہتان اور گمراہ کن بیانیے کا شکار رہا۔عطا ئ اللہ تارڑ نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے شہباز شریف کے خلاف الزامات مختلف فورمز پر دہرائے لیکن آج دنیا کے نامور جریدے انہی الزامات کو جھوٹ اور بہتان پر مبنی قرار دے رہے ہیں،2017 کے دھرنوں کے دوران بھی بانی پی ٹی آئی نے بے بنیاد باتیں کیں۔انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے دور میں جتنے بھی اہم فیصلے ہوئے، وہ روحانیت کا لبادہ اوڑھے ان کی اہلیہبشری بی بی کی معاونت سے کیے جاتے تھے، معاشی اور سیاسی دونوں نوعیت کے فیصلوں میں ان کی اہلیہ کا مرکزی کردار تھا۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ بیرونِ ملک مقیم ایک شخص کے خلاف لندن کی عدالت نے بھی فیصلہ دیا ہے جو حقائق کی مزید تصدیق کرتا ہے، بیرون ملک بیٹھ کر سیاست کرنے والا شخص فوج پر الزامات لگاتا رہتا ہے، ملک کے مفاد کے خلاف بیرون ملک بیٹھ کر غلط بیانی اور پروپیگنڈا کرنا انتہائی نقصان دہ ہے۔ وزیر اطلاعات نے برطانوی جریدے ‘دی اکانومسٹ’ کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس رپورٹ میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ حکومتی معاملات میں اثرانداز ہوتی تھیں، روحانیت کی بنیاد پر فیصلے کیے جاتے اور ان پر عملدرآمد بھی ہوتا تھا۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ سابق وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کو بھی ایسے ہی فیصلوں کے تحت وزارت اعلی کے عہدے پر تعینات کیا گیا، بانی پی ٹی آئی کے دور میں پورے نظام کو جھوٹ اور بہتان کی بنیاد پر چلایا گیا۔ دہشت گردی کے واقعات اور سکیورٹی کارروائیوں کے حوالے سے وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ وانا کیڈٹ کالج میں 550 سے زائد طلبہ کی جانیں بچائی گئیں، جو پاک فوج کی بہادری کی علامت ہے، فوج نے دہشت گردوں کو جہنم واصل کر کے بڑی کارروائی کی۔ انہوں نے اسلام آباد کچہری حملے کے حوالے سے کہا کہ تحقیقات جاری اور دہشت گرد اب “سافٹ ٹارگٹس” کی طرف بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وزیر اطلاعات نے سری لنکن ہائی کمشن اور زمبابوے کرکٹ ٹیم کا شکریہ ادا کیا اور زور دیا کہ کھیل اور امن کی سرگرمیاں ہر صورت جاری رہیں گی۔ آئینی ترامیم اور عدالتی اصلاحات کے حوالے سے سوال پر عطائ اللہ تارڑ نے کہا کہ آئینی ترامیم کے ذریعے فیصلے ہوتے ہیں اور پارلیمنٹ کو قانون سازی کا مکمل اختیار حاصل ہے، ججز کی تمام تعیناتیاں میرٹ پر ہوں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں آئینی نوعیت کے کیسز سننے کے لیے الگ بینچ یا عدالت قائم ہونے سے عوام کو فائدہ ہوگا، 27ویں آئینی ترمیم کو عجلت میں منظور کرنے کا الزام درست نہیں ،اس پر کئی برسوں سے بات ہو رہی تھی، لیکن عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ جھوٹے بیانیوں اور پروپیگنڈے سے ملک کو نقصان پہنچ رہا اور حکومت حقائق کی بنیاد پر آگے بڑھ رہی ہے، پی ٹی آئی کا بیانیہ بعض بیرونی عناصر خصوصا افغانستان کے پروپیگنڈا کے ساتھ مل جاتا ہے جو پاکستان کیلئے خطرناک ہے۔

Comments are closed.