بھارتی ایجنسیوں کے چھاپوں سے وادیٔ کشمیر خوف و دہشت میں مبتلا، بھارت کے جابرانہ اقدامات کی شدید مذمت: مشتاق احمد بٹ
اسلام آباد، 15 اکتوبر —
کل جماعتی حریت کانفرنس (آزاد کشمیر و پاکستان شاخ) کے سیکرٹری اطلاعات مشتاق احمد بٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی قابض فورسز اور خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے حریت رہنماؤں، آزادی پسند کارکنوں اور عام شہریوں کے گھروں پر جاری چھاپوں اور گرفتاریوں کی شدید مذمت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان غیر انسانی کارروائیوں نے وادی بھر میں خوف و دہشت اور عدمِ تحفظ کا ماحول پیدا کر دیا ہے، اور مقبوضہ ریاست کو مکمل فوجی جبر کے زیرِ سایہ ایک محصور بستی میں بدل دیا گیا ہے۔
مشتاق احمد بٹ نے کہا کہ بھارت عالمی برادری کو گمراہ کرنے کے لیے امن و استحکام کے جھوٹے دعوے کر رہا ہے، جبکہ ریاست میں دس لاکھ سے زائد فوجی اہلکاروں کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت کشمیر کو ایک سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ عسکری مہم کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کے یہ اقدامات کشمیری عوام کے اجتماعی شعور، شناخت اور مزاحمتی عزم کو کچلنے کی منظم کوشش ہیں۔
5 اگست 2019 کے غیر قانونی اقدامات کے ذریعے بھارت نے ریاست کے مسلم تشخص کو ختم کرنے اور آبادیاتی تناسب بدلنے کی خطرناک سازش شروع کی، جو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔
مشتاق احمد بٹ نے کہا کہ بھارت نے کشمیر میں اظہارِ رائے کی آزادی، آزاد صحافت، اور بنیادی انسانی حقوق پر بدترین پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔
صحافیوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے، اخبارات پر سنسرشپ ہے اور جو بھی سچ بولنے کی جرات کرتا ہے، اسے جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری، خصوصاً اقوامِ متحدہ، او آئی سی، یورپی یونین، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ سے اپیل کی کہ وہ بھارت کے ان غیر انسانی اقدامات کا فوری نوٹس لیں، سیاسی قیدیوں کو رہا کرایا جائے، اور کشمیری عوام سے حقِ خودارادیت کے وعدے کو پورا کیا جائے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں امن اسی وقت ممکن ہے جب مسئلۂ کشمیر کو کشمیری عوام کی امنگوں اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔
کشمیری عوام نے اپنے خون سے آزادی کی شمع روشن کی ہے اور وہ اسے کسی صورت بجھنے نہیں دیں گے۔
Comments are closed.