
پاکستان پیپلزپارٹی چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ تحریک انصاف نے کانپیں ٹانگنے سے متعلق ان کی ویڈیو جعل سازی سے بنائی۔
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں اسلام آّباد کے ڈی چوک پر بلاول بھٹو کے ایک خطاب کی ویڈیو سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہوئی جس میں ان سے کانپیں ٹانگنے کے لفظ منسوب کیا گیا۔
پاکستانی ٹی وی چینل جیو نیوز پر میزبان حامد میر کو انٹرویو دیتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ’پی ٹی آئی کی جماعت ویڈیو میں جعلسازی کرنے اور پروپیگینڈا کرنے کی ماہر ہے۔ یہ ویڈیو بھی جعل سازی سے بنی ہے۔‘
پاکستانی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ اپوزیشن کی حکومت ہفتوں دنوں کی بات ہے، تحریک عدم اعتماد میں اپوزیشن دو سو کا نمبر حاصل کر لے گی۔ انھوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ تحریک انصاف نے کانپیں ٹانگنے سے متعلق ان کی ویڈیو جعل سازی سے بنائی ہے۔
بلاول کا کہنا تھا کہ ’جب میں گھر جا رہا تھا تو میں نے سوشل میڈیا پر یہ کلپ دیکھا اور میں نے سمجھا کہ واقعی میری زبان پھسل گئی ہو گی۔ لیکن گھر جا کر میں نے جیو نیوز کی ہیڈلائن دیکھی۔ وہاں تو بلکل صحیح کہا جا رہا تھا۔‘
’لیکن جو بھی ہے اور جیسے بھی ہے، اب میں اس لفظ کو اون کرتا ہوں اور عوام کو سمجھانا چاہوں گا کہ ٹانگیں کانپنے میں اور کانپیں ٹانگنے میں فرق کیا ہے۔‘
بلاول بھٹو نے کہا کہ ’وزیر اعظم صاحب کی ٹانگیں کانپنی شروع ہو گئی تھیں ہمارا مارچ شروع ہونے سے پہلے۔ جیسے ہی مارچ نکلا، انھوں (وزیر اعظم) نے پٹرول کی قیمتوں میں کمی کی، بجلی کی قیمتوں میں کمی کی۔ جب ہم اسلام آباد پہنچے تو پھر کانپیں ٹانگنے والا سین شروع ہو گیا۔ پھر آپ نے دیکھا کہ وہ جگہ جگہ جلسوں میں گالی دینے پر اتر آئے۔ ایک خوف ہے، ایک ڈر ہے، اور ایسے میں ٹانگیں کانپتی نہیں بلکہ کانپیں ٹانگنا شروع ہو جاتی ہیں۔‘
لاول بھٹو نے کہا کہ ان کو یقین ہے کہ ’تحریک عدم اعتماد میں اپوزیشن ڈبل سنچری کر لے گی۔‘ انھوں نے کہا کہ اس بات پر اتفاق ہے کہ اپوزیشن کی جانب سے وزیر اعظم کے امیدوار ن لیگ سے ہوں گے کیوں کہ وہ اکثریتی جماعت ہے۔
بلاول بھٹو نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’میں چیلنج کرتا ہوں کہ بتائیں کہاں ہے بیرونی سازش؟ ہم تین سال سے محنت کر رہے ہیں۔ امریکہ کو اس بات سے کوئی دلچسپی نہیں کہ پاکستان میں کیا ہو رہا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ اگر آپ (عمران خان) 10 لاکھ لوگوں کو دعوت دے رہے ہیں تو آپ اس طاقت کا اظہار کر رہے ہیں جس کا آئین کے آرٹیکل چھ میں ذکر ہے۔ اپوزیشن کی حکومت ہفتوں، دنوں کی بات ہے۔ ہم چاہتے ہیں سڑکوں پر نہیں، پارلیمان میں مقابلہ کریں۔ جہاں دس لاکھ نہیں، صرف 172 لوگ لائیں۔‘
’عمران خان چاہتے ہیں کہ ان کی حکومت بچ جائے ورنہ اتنی بد امنی ہو کہ کسی تیسری طاقت کو بہانہ ملے اور اس طرح وہ سیاسی شہید بن جائیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے ’ہارس ٹریڈنگ کا الزام جھوٹا ہے۔ ہم جمہوری عدم اعتماد کی تحریک چلا رہے ہیں۔ ایسے ہتھکنڈے غیر جمہوری طور پر استعمال ہوتے ہیں۔‘




