بلوچستان بھر میں انسدادِ پولیو مہم بھرپور انداز میں جاری — ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز اور محکمہ صحت کی ٹیمیں فیلڈ میں متحرک
کوئٹہ / سبی / بختیار آباد / گوادر / تربت / نصیر آباد (14 اکتوبر 2025)
بلوچستان کے مختلف اضلاع میں انسدادِ پولیو مہم کے دوسرے روز بھی بھرپور سرگرمیاں جاری رہیں۔ ضلعی انتظامیہ، محکمہ صحت، ڈبلیو ایچ او، اور دیگر اداروں کے تعاون سے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا سلسلہ تسلسل کے ساتھ جاری ہے، تاکہ صوبے کے کسی بھی کونے میں کوئی بچہ ویکسین سے محروم نہ رہے۔
سبی:
ڈپٹی کمشنر سبی میجر (ر) الیاس کبزئی کی زیرِ نگرانی پولیو مہم کے دوران یونین کونسل کڑک میں فیلڈ ٹیموں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ ڈی سی سبی نے غیر آباد علاقوں میں خانہ بدوشوں کے ٹینٹوں میں مقیم بچوں کو خود پولیو اور وٹامن اے کے قطرے پلائے۔ شام کے وقت ایوننگ ریویو اجلاس میں تمام یو سی ایم اوز نے اپنی رپورٹس پیش کیں، جس میں کورڈ، زیرو ڈوز اور مسڈ بچوں کی تفصیلات شامل تھیں۔ ڈی سی سبی نے ہدایت کی کہ کوئی بھی بچہ ویکسین سے محروم نہ رہے، کیونکہ پولیو کا خاتمہ قومی مقصد ہے۔
بختیار آباد:
اسسٹنٹ کمشنر میر بہادر خان بنگلزئی نے فیلڈ وزٹ کے دوران پولیو ٹیموں کی کارکردگی، ویکسینیشن کے عمل اور رپورٹنگ سسٹم کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ خانہ بدوشوں اور دور دراز علاقوں کے بچوں تک رسائی یقینی بنائی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے فیلڈ نگرانی اور عوامی تعاون نہایت ضروری ہیں، اور حکومت بلوچستان اس مقصد کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔
گوادر:
ڈپٹی کمشنر حمودالرحمٰن کی زیرِ صدارت پولیو مہم کے دوسرے دن کی پیش رفت کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں مختلف محکموں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ ڈی سی گوادر نے زور دیا کہ پولیو ایک خطرناک وائرس ہے جو بچوں کو عمر بھر کے لیے معذور کر دیتا ہے، اس لیے والدین، اساتذہ، اور ائمہ کرام معاشرتی سطح پر آگاہی مہم میں فعال کردار ادا کریں۔ اجلاس میں سیکیورٹی خدشات، انکاری والدین، اور ناٹ اویلیبل بچوں جیسے چیلنجز پر بھی غور کیا گیا۔
تربت:
اسسٹنٹ کمشنر محمد جان بلوچ کی صدارت میں پولیو مہم پر شام کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈی ایچ او، ڈبلیو ایچ او، پی پی ایچ آئی، اور یونیسف کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران پولیو مہم کی پیش رفت اور فیلڈ مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسسٹنٹ کمشنر نے ٹیموں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہر بچے تک پولیو کے قطرے پہنچانا اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے مانیٹرنگ نظام کو مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی تاکہ کوئی بچہ محروم نہ رہ جائے۔
نصیر آباد:
ڈپٹی کمشنر منیر احمد خان کاکڑ کی زیرِ صدارت انسدادِ پولیو مہم کے سلسلے میں ایوننگ جائزہ اجلاس ہوا، جس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر، ڈبلیو ایچ او کے نمائندے اور یو سی ایم اوز نے شرکت کی۔ ڈی سی نصیر آباد نے ہدایت کی کہ پولیو ویکسین کے ساتھ وٹامن کے قطرے بھی تمام بچوں تک پہنچائے جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ لاپرواہی یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی، اور غفلت برتنے والے افسران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
صوبے بھر میں جاری ان سرگرمیوں کا مقصد پاکستان کو مکمل طور پر پولیو فری ملک بنانے کے قومی عزم کو عملی شکل دینا ہے۔ ضلعی انتظامیہ، محکمہ صحت، ڈبلیو ایچ او، پی پی ایچ آئی، اور عوام کے باہمی تعاون سے بلوچستان میں انسدادِ پولیو مہم کامیابی سے جاری ہے۔
Comments are closed.