وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کا نیشنل ورکشاپ بلوچستان سے خطاب — “بلوچستان میں شورش نہیں، علیحدگی کی نام نہاد تحریکیں ہیں”

18

خصوصی رپورٹ
کوئٹہ 14 اکتوبر . وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے 17ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں شورش نہیں بلکہ چند عناصر کی علیحدگی پسند تحریکیں ہیں جو ملک دشمن قوتوں کے ایجنڈے پر کام کر رہی ہیں۔ ان کا مقصد پاکستان کو نقصان پہنچانا اور تقسیم کرنا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دشمن پاکستان کو کیک کی طرح ٹکڑوں میں بانٹنا چاہتا ہے، مگر قوم متحد ہے۔ بلوچستان میں غیر متوازن ترقی کا غلط تاثر جان بوجھ کر پھیلایا گیا، جب کہ “ناراض بلوچ” کی اصطلاح دراصل دہشت گردی کو جواز فراہم کرنے کے لیے متعارف کرائی گئی۔

انہوں نے کہا کہ جو شخص بندوق کے زور پر تشدد کرے وہ ناراض نہیں بلکہ دہشت گرد ہے۔ بلوچستان میں پہلا فراری کیمپ 21 جون 2002 کو قائم ہوا جس سے دہشت گردی کو فروغ ملا۔ سوشل میڈیا کے پروپیگنڈے کے ذریعے نوجوانوں اور ریاست کے درمیان فاصلے بڑھائے گئے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کے گلے شکوے سننے کے لیے جامعات اور ہر فورم پر جا رہی ہے۔ بلوچستان کے حالات کی خرابی میں بھارتی ایجنسی “را” کا واضح کردار ہے۔ علیحدگی پسند بھارت سے خوش ہیں مگر پاکستان کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف فوج نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ جنگ ہے۔ سیاست سے زیادہ اہم ریاست پاکستان ہے، اسی لیے حکومت بلوچستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اپنی ذمے داری سمجھ کر اپنایا ہے۔

میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ صوبے میں گورننس کی بہتری اور اصلاحات کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں۔ صحت و تعلیم کے شعبوں میں نمایاں بہتری سامنے آرہی ہے۔ 3200 غیر فعال اسکولز اور 164 بنیادی طبی مراکز کو فعال کیا گیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سی ٹی ڈی کی استعداد کار بڑھائی جا رہی ہے اور اس کے لیے 10 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز ایسے علاقوں میں کارروائیاں کر رہی ہیں جہاں دشمن اور دوست کی پہچان مشکل ہے۔ واضح دشمن کے خلاف کارروائی آسان مگر اندرونی صفوں میں موجود دشمن سے نمٹنا زیادہ دشوار ہے۔

وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ بلوچستان کے 24 ذیلی اضلاع میں گزشتہ 12 برسوں سے اسسٹنٹ کمشنرز تعینات نہیں تھے، موجودہ حکومت نے ان کی تعیناتی کر کے ریاستی رٹ بحال کی ہے۔

Comments are closed.