یہ کوئی اڈیالہ جیل، زمان پارک یا پاکپتن کا پیر خانہ نہیں، جہاں ہر ہفتے تماشہ لگایا جائے: وزیر اطلاعات پنجاب

6

“”لاہور: وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمٰی بخاری نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حالیہ بیانات پر سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کوئی اڈیالہ جیل، زمان پارک یا پاکپتن کا پیر خانہ نہیں ہے، جہاں ہر ہفتے اہلِ خانہ اور چند کرائے کے لوگوں کے ساتھ تماشہ لگایا جائے۔
عظمٰی بخاری نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ اڈیالہ جیل کے باہر پی ٹی آئی کا کوئی ذمہ دار عہدے دار موجود نہیں ہوتا، جبکہ خواتین کو دانستہ طور پر ڈھال کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، جو انتہائی افسوسناک عمل ہے۔
وزیر اطلاعات نے واضح کیا کہ پنجاب پولیس ہمیشہ صبر و تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کرتی ہے، تاہم جب قانون کی خلاف ورزی کی جاتی ہے تو پولیس قانون کے مطابق کارروائی کرنے پر مجبور ہوتی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر کوئی پولیس کے ساتھ بدتمیزی کرے یا ہاتھا پائی کرے تو کیا پولیس خاموش تماشائی بنی رہے؟
عظمٰی بخاری نے مزید کہا کہ اپنے ہر گناہ کا الزام وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز پر ڈالنے کی روایت بند کی جائے۔ اگر کسی کے لیڈر کی خاطر عوام باہر نہیں نکلتے تو اس کا ملبہ مریم نواز پر کیوں ڈالا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو خود کو کبھی مقبول ترین سمجھتا تھا، آج وہ عوام میں اپنی اہمیت کھو چکا ہے۔ آئین اور قانون کا درس وہ لوگ دے رہے ہیں جو ماضی میں خود مطلق العنان رویوں کے علمبردار رہے۔
عظمٰی بخاری نے زور دے کر کہا کہ آئین کی حکمرانی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے نام پر سیاسی کارڈ کھیلنا بند کیا جائے۔ جو بھی قانون کو ہاتھ میں لے گا، وہ قانون کے کٹہرے میں کھڑا ہوگا، چاہے وہ کوئی بھی ہو۔

Comments are closed.