افغان جارحیت کا منہ توڑ جواب — 23 پاکستانی جوان شہید، 200 سے زائد دہشت گرد ہلاک: آئی ایس پی آر

16

اسلام آباد، 13 اکتوبر 2025، صبح 6 بجے —
پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، افغان سرزمین سے کیے گئے بلا اشتعال اور بزدلانہ حملوں کا پاکستانی مسلح افواج نے بھرپور اور مؤثر جواب دیا ہے۔

آئی ایس پی آر نے تصدیق کی ہے کہ اس دوران 23 پاکستانی سپاہی مادرِ وطن پر قربان ہو کر شہید ہوئے جبکہ 29 جوان زخمی ہوئے۔ جھڑپیں سرحدی علاقوں چترال، کرم، باجوڑ، انگور اڈہ اور چمن سمیت کئی محاذوں پر ہوئیں۔

ترجمان پاک فوج کے مطابق، قابلِ اعتماد انٹیلی جنس رپورٹس اور آپریشنل اسسمنٹ کی بنیاد پر 200 سے زائد دہشت گرد — جو طالبان یا دیگر کالعدم تنظیموں سے منسلک تھے — مارے گئے جبکہ ان کے 21 ٹھکانے تباہ کیے گئے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاک فوج نے انتہائی ذمہ داری اور صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا، اور تمام کارروائیاں دفاعی نوعیت کی تھیں جن کا مقصد صرف پاکستانی عوام اور سرحدی علاقوں کا تحفظ تھا۔
آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ دہشت گرد عناصر افغانستان کی سرزمین سے کارروائیاں کر رہے ہیں اور انہیں وہاں پناہ اور معاونت حاصل ہے، جو کابل انتظامیہ کے وعدوں کے برعکس ہے۔

بیان میں کہا گیا:

> “پاکستانی قوم افغان عوام سے دشمنی نہیں رکھتی — ہم مذہب، ثقافت اور تاریخ کے رشتوں سے جڑے ہیں — مگر اگر کوئی گروہ پاکستان کی سرزمین پر حملہ کرے گا تو اُسے منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔”

آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان علاقائی امن اور بھائی چارے کا خواہاں ہے، مگر اگر دہشت گرد افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرتے رہے تو ریاست پاکستان اپنی دفاعی کارروائیاں جاری رکھنے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

Comments are closed.