اوستہ محمد (رپورٹ حنیف بلوچ ) حکومتی فیصلے ہوا میں اڑ گئے سیکورٹی گارڈز کمپنی سمیت تمام پرائیویٹ ادارے بے روزگار نوجوانوں کو اجرت 12 ہزار سے 15 ہزار روپے دے رہے ہیں جو کہ 18 گھنٹے ڈیوٹی کرنے والے نوجوانوں کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے وزیراعلی بلوچستان چیف سیکرٹری بلوچستان اور حکام بالا اس جانب فوری نوٹس لے
اوستہ محمد کے عوامی حلقوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ روزگار کی عدم دستیابی کی وجہ سے پڑھے لکھے نوجوان اپنے کنبے کی کفالت کے لیے روزگار کی تلاش میں بلوچستان کے دور دراز علاقوں سے کوئٹہ ا کر سیکورٹی گارڈ کی ملازمت کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے لیکن ستم ظرفی کی انتہا ہو چکی مختلف سیکیورٹی گارڈز کمپنیز نوجوانوں سے 18 گھنٹے مسلسل ڈیوٹی لے کر انہیں ماہانہ اجرت 12 ہزار روپے سے 15 ہزار روپے تھما دیتے ہیں اور ایک دن کی غیر حاضری پر 500 روپے کٹوتی کی جاتی ہے انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے پرائیویٹ اداروں میں ملازمت کرنے والے بے روزگار نوجوانوں کے لیے 37 ہزار روپے اجرت دینے کے احکامات جاری کیے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے بلوچستان کے کیپیٹل سٹی میں محکمہ لیبر اور دیگر اداروں کے ناک کے نیچے سے بے روزگار نوجوانوں کی تذلیل کی جا رہی ہے اور حکومتی فیصلے کو ہوا میں اڑا دیا گیا ماہانہ اجرت 12 ہزار سے 15 ہزار روپے دیے جا رہے ہیں انہوں نے کہا کہ کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں پرائیویٹ اداروں میں کام کرنے والے بے روزگار نوجوانوں کو 10 سے 15 ہزار روپے اجرت دی جا رہی ہے جو کہ سراسر ظلم اور نا انصافی کے مترادف ہے حکام بالا اس جانب فوری کاروائی کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف قانون کے تحت سخت کاروائی کو یقینی بنائے