جمہوری آزادی کی درجہ بندی، مقبوضہ کشمیر کا 49 واں نمبر

واشنگٹن: دنیا بھر میں جمہوری اور صحافتی آزادیوں پر نظر رکھنے والے ایک غیر سرکاری ادارے فریڈم ہائوس کی طرف سے جاری کردہ فریڈم ان دا ورلڈ 2019کے نام سے جاری کردہ سالانہ رپورٹ میں دنیا کے جن ایک سو ملکوں میں جمہوری حقوق، شہری اور صحافتی آزادیوں کی درجہ بندی کی گئی ہے،۔ ان میں پاکستان اور بھارت کے درمیان لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب کے کشمیر میں موجود جمہوری آزادیوں کی الگ الگ درجہ بندی پیش کی گئی ہے۔ یہ درجہ بندی دو ہزار اٹھارہ کے دوران کی ہے، جب بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کو ہٹا کر کشمیر کو بھارت میں ضم نہیں کیا گیا تھا۔فریڈم ہاوس کی رپورٹ میں سال دو ہزار اٹھارہ کے دوران بھارت کے زیر انتظام کشمیر کو جمہوری آزادیوں کی درجہ بندی میں 49 ویں نمبر پر رکھا گیا ہے۔
یعنی وہاں جزوی طور پر آزادیاں حاصل تھیں۔کشمیر کے بارے میں مرتب کی جانے والی رپورٹ میں بھارتی حکومت کی جانب سے اپنے زیر انتظام کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت تبدیل کرنے اور وہاں عائد کی گئی حالیہ پابندیوں کا احاطہ نہیں کیا گیا اور اس سلسلے میں تمام جائزے اس سے قبل کی صورت حال کی عکاسی کرتے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے۔
کہ جموں اور کشمیر کا کنٹرول 1948 سے بھارت اور پاکستان کے درمیان منقسم ہے اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں بھارتی آئین کی شق 370 کے تحت خاصی حد تک خود مختاری حاصل تھی۔ تاہم، وہاں علیحدگی پسندوں نے بھارتی حکومت کے خلاف سرگرمیاں جاری رکھیں۔بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں انتخابات کا انعقاد ہوتا رہا۔ تاہم، یہ انتخابات زیادہ تر پر تشدد رہے۔
وہاں بھارتی مسلح افواج پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات متواتر عائد کیے جاتے رہے۔ لیکن ان خلاف ورزیوں پر سزائیں شاذ ہی دی گئیں۔ بدامنی کے دور میں شہری آزادیاں اکثر پابندیوں کا شکار رہیں۔دوسری جانب، رپورٹ کے مطابق، آزادکشمیر کے دو حصوں یعنی آزاد جموں اور کشمیر، اور گلگت بلتستان میں منتخب اسمبلیاں اور حکومتیں موجود ہیں۔ تاہم، انہیں محدود خود مختاری حاصل ہے۔ انہیں پاکستان کے دیگر صوبوں جیسے اختیارات حاصل نہیں ہیں۔ سیکیورٹی، عدالتوں اور پالیسی سازی کے معاملات میں پاکستان کی وفاقی حکومت کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔




