طالبان کابل آرہے ہیں : امریکی انٹیلی جنس، غیر ملکی سفارتکاروں کو فوری نکلنے کیلئے بھاگ دوڑ

کابل : افغانستان میں طالبان تواتر سے کامیابیاں حاصل کرکے کابل کی طرف بڑھ رہے ہیں امریکی محکمہ دفاع کے ایک اعلٰی افسر نے امریکی خفیہ نیٹ ورک سے حاصل شدہ معلومات کی روشنی میں بتایا ہے کہ طالبان 30 دن میں دارالحکومت کابل کو الگ تھلگ کرکے 90 دن میں اس پر قبضہ کرسکتے ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع کے اعلٰی افسر نے رائٹرزسے گفتگو میں کہا کہ کابل کے حوالے سے امریکی خفیہ اداروں کا نیا تخمینہ امریکی سربراہی میں تعینات رہنے والی غیر ملکی افواج کے رخصت ہونے کے ماحول میں طالبان کی غیر معمولی پیش رفت کی روشنی میں کیا گیا ہے ۔ امریکی افسر نے یہ بھی کہا کہ یہ حتمی معاملہ نہیں ہے ۔ افغانستان کی سکیورٹی افواج غیرمعمولی مزاحمت کے ذریعے صورت حال کو یکسر تبدیل بھی کرسکتی ہیں۔ مغربی سکیورٹی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ پہاڑوں سے گھری ہوئی وادی میں واقع کابل کی طرف جانے والے تمام راستے ان شہریوں سے بھرے ہوئے ہیں جو لڑائی والے علاقوں سے جان بچاکر کابل میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ ان میں طالبان شامل نہیں ہیں۔ طالبان کابل کے سفارتی علاقوں میں خود کش بمباروں کو داخل کرکے (سفارت خانوں پر) حملے کرکے یا خوف کا ماحول پیدا کرکے شہریوں کو جلد از جلد کابل سے نکلنے پر مجبور بھی کرسکتے ہیں، غیر ملکی سکیورٹی حکام نے رائٹرز کو بتایا کہ متعدد ممالک اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ان کا سفارتی عملہ جلد از جلد کابل سے نکل جائے ۔ بین الاقوامی ایئر لائنز سے کہا جارہا ہے کہ وہ سفارتی عملے کے انخلامیں مدد کریں۔ ادھر امریکی صدر جوبائیڈن نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے فیصلے پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے ، ہم افغان حکومت کی حمایت کا سلسلہ جاری رکھیں گے ۔وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکا 31 اگست تک انخلاکی ڈیڈ لائن پر قائم ہے ، افغانستان سے امریکی عسکری ساز و سامان واپس لانے کا سوچ رہے ہیں کیونکہ یہ سامان طالبان کے ہاتھ لگنے کا خدشہ ہے ۔دریں اثنا طالبان نے اب تک 9صوبوں فراہ، ،بدخشاں ، بغلان ،نمروز ،جوزجان، قندوز، سرائے پل، تخار اورسمنگان پر قبضہ کرلیا ہے ، قندوز میں سینکڑوں افغان فوجیوں و دیگر جنگجوؤں نے طالبان کے سامنے ہتھیار ڈال دئیے ، مقامی کونسل کے رکن امرالدین ولی نے نیوز ایجنسی کو بتایا کہ ہتھیار ڈالنے والوں میں فوجیوں کے علاوہ پولیس اور مقامی ملیشیا کے جنگجو بھی شامل ہیں، قندوز ایئرپورٹ پر ہتھیار ڈالنے والے ایک فوجی نے نیوز ایجنسی کو بتایا کہ انہیں تباہ کن مارٹر گولوں کی شیلنگ کا سامنا تھا،جوابی کارروائی ان کیلئے ممکن نہ تھی، اس لئے ہتھیار ڈالنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا، ان کی یونٹ کے 20 فوجیوں نے تین حموی گاڑیاِں اور پک اپ ٹرک طالبان کے حوالے کئے ، اب وہ عام معافی کے خط کے منتظر ہیں ،طالبان نے قندوز ایئرپورٹ پر کھڑے بھارتی جنگی ہیلی کاپٹر کو بھی قبضے میں لے لیا، قندھار اور ہلمند میں طالبان اور سرکاری فورسز کے مابین لڑائی گزشتہ روز بھی جاری رہی، قندھار میں کئی مقامات پر جھڑپیں ہوئیں، شدید لڑائی کے بعد طالبان نے قندھار جیل پر قبضہ کر لیا جیل میں قید ہزاروں قیدیوں کو رہا کردیا گیا ،لشکر گاہ شہر میں بھی طالبان داخل ہوگئے ہیں جبکہ لشکرگاہ پر فضائی بمباری سے مارکیٹ میں آگ لگ گئی ،مارکیٹ میں درجنوں میڈیکل سٹورز موجود تھے ،لشکرگاہ پولیس سٹیشن کو خودکش بمبار نے نشانہ بنادیا،حملے میں 15 پولیس اہلکار زخمی ، عمارت تباہ ہوگئی۔طالبان نے فراہ شہر کا قبضہ واپس لینے کے دعوے کی تردید میں ویڈیو جاری کردی، بلغ ہیڈ کوارٹرز مزار شریف طالبان کا اگلا ممکنہ ہدف ہے ، طالبان جنگجوئوں نے چاروں طرف سے گھیرائو کرلیا،محصور افغان فورسز کا حوصلہ بڑھانے کیلئے صدر اشرف غنی مزار شریف پہنچ گئے جہاں انہوں نے گورنر بلخ عطا محمد نور اور جنگی سردار عبدالرشید دوستم کیساتھ شہر کے دفاع سے متعلق بات چیت کی، اشرف غنی کی روانگی سے قبل عبدالرشید کمانڈوز کے ایک گروپ کیساتھ کابل سے مزار شریف پہنچے ، جہاں انہوں نے رپورٹروں سے گفتگو کے دوران طالبان کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کبھی ماضی سے نہیں سیکھتے ، وہ پہلے بھی کئی مرتبہ شمالی علاقے میں آئے مگر بری طرح سے پھنس گئے ۔ عبدالرشید دوستم نے افغان صدر کے ساتھ شمالی اور مشرقی صوبوں کا قبضہ واپس لینے کی منصوبہ بندی بھی کی۔صدر اشرف غنی نے افغان آرمی چیف ولی احمد زئی کو برطرف کر کے جنرل ہیبت اللہ علی زئی کو نیا سپہ سالار مقرر کیا ہے ۔افغانستان میں تشدد کی نئی لہر کے باعث 21 جون کو ہی افغان صدر نے جنرل ولی محمد احمد زئی کو نیا چیف آف آرمی سٹاف تعینات کیا تھا،برطرف آرمی چیف کی کارکردگی کو بڑے پیمانے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔افغانستان کے قائم مقام وزیر خزانہ خالد پائندہ بھی استعفیٰ دے کر ملک سے فرار ہوگئے ،ترجمان وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ طالبان کی افغان سرزمین پر قبضے میں تیزی کے باعث خالد پائندہ نے استعفیٰ دیا جبکہ دوسری وجہ ان کی بیمار اہلیہ ہیں، انہیں بیرون ملک علاج کیلئے لے کر جانا وقت کی اہم ضرورت تھی۔ادھر افغانستان کی صورتحال پر امریکی انٹیلی جنس حکام کی جائزہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان 90 دن کے اندر کابل پر قبضہ کر سکتے ہیں، افغان فوج مزاحمت دکھائے تو صورتحال بدل سکتی ہے ۔ادھر جرمنی اور نیدرلینڈز نے افغان تارکین کی جبری وطن واپسی کا عمل روک دیا، ترجمان جرمن وزارت داخلہ نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ افغانستان کی سکیورٹی صورتحال کے باعث افغان تارکین کی ملک بدری کا عمل معطل کیا گیا ہے ، نیدر لینڈز کی وزیر انصاف نے اعلان کیا کہ افغان شہریوں کی ملک بدری کے فیصلوں پر عمل درآمد چھ ماہ کیلئے روک دیا ہے ۔مزید برآں پاک افغان سرحدی حکام کے درمیان باب دوستی کھولنے سے متعلق اجلاس بے نتیجہ ختم ہو گیا،لیویز حکام کے مطابق باب دوستی بدھ کوکھولنے کا فیصلہ سکیورٹی مسائل کے باعث موخر کر دیا گیا ، بارڈر پر موجود تمام مال بردار گاڑیوں، ٹرکوں اور کنٹینرز کو واپس ٹرمینلز میں منتقل کر دیا گیا ہے ، کسٹم عملے کو موجود رہنے کی ہدایت کی گئی ہے ، سکیورٹی اہلکاروں نے باب دوستی سے لائوڈسپیکرز پر اعلانات کرتے ہوئے بارڈر کے دونوں جانب موجود شہریوں کو واپس جانے کی ہدایت کر دی ،اجلاس میں مہاجرکارڈ کی شرط پر ڈیڈ لاک پیدا ہوا، پاکستانی حکام کا موقف تھا کہ افغان شہریوں کو مہاجر کارڈ پر آنے جانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ،اس سے قبل پاکستانی حکام اور طالبان کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد چمن بارڈر کو کھولنے کا فیصلہ کیا گیاتھا۔پاکستان کے افغانستان کیلئے نمائندہ خصوصی محمد صادق نے وفد کے ہمراہ بدھ کو طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ ملا برادر سے ملاقات کی ،جس میں افغانستان کی تازہ ترین صورتحال اور مذاکرات سے متعلق تبادلہ خیال کیاگیا،سرحد پر لوگوں کی مشکلات حل کرنے سے متعلق بھی بات چیت ہوئی ۔




