ایک سو نوے ملین پاؤنڈ کیس، شہزاد اکبر کا کرپشن میں مرکزی کردار ثابت

17

خصوصی رپوٹ

*190 ملین پاؤنڈ کیس، شہزاد اکبر کا کرپشن میں مرکزی کردار ثابت*

190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں سابق چیئرمین اسیٹ ریکوری یونٹ اورسابقہ مشیر خاص برائے احتساب مرزا شہزاد اکبر کا مرکزی کردار ثابت

شہزاد اکبر پر الزام ہے کہ اس نے ایک غیر قانونی سکیم کا ماسٹر مائنڈ بن کر پاکستان کو مالی نقصان پہنچایا، *ذرائع*

تحقیقات کے مطابق;
’’ مرزا شہزاد اکبر نے 6 نومبر 2019 کو رازداری کے معاہدےDeed of Confidentiality) پر دستخط کیے‘‘

190 ملین پاؤنڈ کی رقم بحریہ ٹاؤن، کراچی کے ذمہ داری اکاؤنٹ سے رجسٹرار سپریم کورٹ آف پاکستان کے نام “نامزد اکاؤنٹ” میں منتقل کی گئی، *ذرائع*

معاہدے میں شریک ملزم ضیاء المصطفیٰ نسیم نے بھی دستخط کیے اور اس رقم کو اسٹیٹ آف پاکستان کا اکاؤنٹ ظاہر کیا گیا، *ذرائع*

مخصوص اکاؤنٹ (بحریہ ٹاؤن کی ذمہ داری کا اکاؤنٹ) کو سٹیٹ بینک آف پاکستان کا اکاؤنٹ ظاہر کر کے رجسٹرار سپریم کورٹ کے نام کر دیا *ذرائع*

ریکارڈ کے مطابق، مرزا شہزاد اکبر نے 4 سے 8 فروری اور 22 سے 26 مئی 2019 تک برطانیہ کے دورے کیے ، *ذرائع*

ان دوروں میں شہزاد اکبر نے برطانوی ہوم سیکرٹری اور نیشنل کرائم ایجنسی کے ڈی جی سے سول ریکوری اور حوالگی کے معاملات پر بات چیت کی، *ذرائع*

فروری اور مئی 2019 میں شہزاد اکبر نے برطانیہ کے دوروں میں این سی اے حکام سے ملاقاتیں کر کے فنڈز واپسی کا خفیہ روڈ میپ تیار کیا، *ذرائع*

شہزاد اکبر نے بدنیتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایف بی آر، ایف آئی اے اور اسٹیٹ بینک نمائندوں کو رقم کی واپسی کے معاملے میں شامل نہیں کیا، *ذرائع*

شہزاد اکبر کی بدینتی کے باعث سپریم کورٹ آف پاکستان کو شدید مالی نقصان پہنچا، *ذرائع*

شہزاد اکبر کی اس بدنیتی کی وجہ سے 190 ملین پاؤنڈ( تقریباً 50 ارب پاکستانی روپے) ریاست کی بجائے بحریہ ٹاؤن کو فائدہ دینے کیلئے استعمال ہوئے، *ذرائع*

اینٹی کرپشن یونٹ کے تشکیل نوٹیفکیشن اور کابینہ اجلاس سے قبل 6 نومبر کو ڈیڈ پر دستخط کرنا بھی ملزم کی بدنیتی کا ثبوت ہے، *ذرائع*

نومبر 2019 کے آخری ہفتے میں کابینہ کے اجلاس سے پہلے برطانیہ سے پاکستان کو جرائم کی رقم منتقل کی گئی، *ذرائع*

سابق وزیراعظم (بانی پی ٹی آئی) کے نوٹ اور اعظم خان کے بیان سے واضح ہے کہ ؛
’’شہزاد اکبر، سابق وزیراعظم اور اعظم خان کی ملاقات دو مارچ 2019 کو ہوئی جس میں این سی اے سے تصفیہ اور رقم کی پاکستان منتقلی پر بات ہوئی ‘‘

اے آر یو (ARU) کے دائرہ اختیار سے تجاوز کرتے ہوئے شہزاد اکبر نے سابق وزیراعظم کے ساتھ مل کر منصوبہ بندی کی، *ذرائع*

ملزم شہزاد اکبر نے 3 دسمبر 2019 کو کابینہ میں معاہدہ پیش کیا مگر چھپایا کہ وہ 6 نومبر کو پہلے ہی خفیہ معاہدے پہ دستخط کر چکا ہے، *ذرائع*

برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (NCA) نے 14 دسمبر 2018 سے قبل تقریباً 120 ملین پاؤنڈز منجمد کر دیے تھے، *ذرائع*

یہ رقم دو پاکستانی شہریوں علی ریاض ملک اور مبشرہ ملک کے خلاف شک کی بنیاد پر ضبط کی گئی تھی، *ذرائع*

یہ کارروائی برطانیہ کے کرائم ایکٹ 2002 کے سیکشن 3، حصہ 5، باب 38 کے تحت عمل میں آئی، *ذرائع*

بعد ازاں، نیشنل کرائم ایجنسی نے نامزد افراد اور ان کے ساتھیوں کے خلاف زیر التوا مقدمات، تحقیقات اور انکوائریوں کی تفصیلات طلب کیں، *ذرائع*

این سی اے نے لندن کی اہم جائیداد 1 Hyde Park Place کے سلسلے میں کرائم ایکٹ 2002 کے تحت تحقیقات شروع کیں، *ذرائع*

جن جائیدادوں کی تحقیقات این سی اے نے کرائم ایکٹ 2002 کے تحت کیں وہ مذکورہ خاندان نے خریدی تھی، *ذرائع*

اثاثہ ریکوری یونٹ نے 13 مارچ 2019 اور 21 مارچ 2019 کو درخواست نمبر 8758 کے تحت بحریہ ٹاؤن (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے ساتھ ایک معاہدہ کیا، *ذرائع*

کیس کے جواب دہندگان نے برطانیہ میں نیشنل کرائم ایجنسی اور وکلاء سے رابطہ کیا اور عدالت سے باہر تصفیے کی پیشکش کی، *ذرائع*

13 اور 21 مارچ 2019 کو سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کیس میں بھاری جرمانہ عائد کی اور فوجداری مقدمات کو مشروط طور پر معطل کیا ، *ذرائع*

تحقیقات سے ثابت ہے کہ ؛
“ملزم شہزاد اکبر نے اختیارات کا ناجائز استعمال، بد نیتی اور کرپشن فنڈز چھپانے میں مرکزی کردار ادا کیا”

اس کیس میں نیب اور دیگر متعلقہ ادارے تحقیقات کر رہے ہیں اور قانونی کارروائی جاری ہے، *ذرائع*

اسی جرم کی بناء پر شہزاد اکبر کو اشتہاری مجرم قرار دیا گیا ہے، *ذرائع*

Comments are closed.