روس کے یوکرین پر حملے کی صورت میں فضائی انخلا ممکن نہیں ہو گا، برطانیہ

برطانوی مسلح افواج کے وزیر نے خبردار کیا ہے کہ رائل ایئر فورس یوکرین سے برطانوی شہریوں کے انخلا میں مدد دینے کی پوزیشن میں نہیں ہوگی اس لیے تمام برطانوی شہریوں کو چاہیے کہ وہ اسی وقت یوکرین چھوڑ دیں۔ دوسری جانب امریکی حکام نے یوکرین میں رہنے والے اپنے شہریوں کو اگلے 48 گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کی تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ روسی افواج ’کسی بھی لمحے‘ حملہ کر سکتی ہیں۔
امریکی حکام نے تنبیہ کی ہے کہ روسی افواج ’کسی بھی لمحے‘ یوکرین پر حملہ کر سکتی ہیں اور ساتھ ساتھ انھوں نے یوکرین میں رہنے والے امریکی شہریوں کو اگلے 48 گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کا کہا ہے۔
جمعے کو وائٹ ہاؤس کی جانب سے کہا گیا کہ روسی حملے کا آغاز فضائی بمباری سے ہو گا جس کے باعث یوکرین چھوڑنے والے افراد کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں اور شہریوں کی زندگی بھی خطرے میں ہو گی۔
دوسری جانب روس نے مسلسل ان الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ان کا یوکرین پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ روسی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک چھوٹی معلومات فراہم کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ یوکرین اور روس کی سرحد پر ایک لاکھ سے زیادہ روسی فوجی اس وقت موجود ہیں۔
امریکہ کے علاوہ برطانیہ، کینیڈا، نیدرلینڈز، لیٹویا، جاپان اور جنوبی کوریا نے بھی یوکرین میں رہنے والے اپنے شہریوں کو ملک چھوڑنے کا کہا ہے۔
برطانوی مسلح افواج کے وزیر جیمز ہیپی نے خبردار کیا ہے اگر روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو برطانیہ ملک میں موجود اپنے شہریوں کو فضائی راستے سے نہیں نکال سکے گا۔
جیمز ہیپی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ رائل ایئر فورس یوکرین سے برطانوی شہریوں کے انخلا میں مدد دینے کی پوزیشن میں نہیں ہوگی اس لیے تمام برطانوی شہریوں کو چاہیے کہ وہ اسی وقت یوکرین چھوڑ دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ کی جانب سے اس لیے رائے بدلی گئی کیونکہ روس اس وقت ایسی پوزیشن میں آ چکا ہے جہاں کسی بھی لمحے حملہ کیا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ جمے کے دن برطانیہ نے یوکرین میں موجود شہریوں کو اڑتالیس گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کی وارننگ دی تھی جب وہاں کمرشل ائیرلائنز کام کر رہی تھیں۔
امریکی حکام نے کیا کہا ہے؟
امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوین نے پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ روسی افواج اب اس پوزیشن میں ہیں کہ وہ بڑا فوجی آپریشن کر سکیں۔‘
’ظاہر ہے کہ ہم مستقبل کے بارے میں تو کچھ نہیں کہہ سکتے اور ہمیں نہیں علم کہ کیا ہوگا، لیکن اب خطرہ بہت بڑھ گیا ہے اور اس قدر ہے کہ ملک چھوڑنا ہی مناسب ہے۔‘
جیک سلیوین نے یہ کہا کہ امریکی انتظامیہ کو یہ نہیں معلوم کہ آیا روسی صدر ولادیمر پوتن نے یوکرین پر چڑھائی کا حتمی فیصلہ کیا ہے یا نہیں لیکن ان کا کہنا تھا کہ روس حملہ کرنے کی وجوہات ڈھونڈ رہا ہے اور وہ فضائی بمباری سے معاملات شروع کر سکتا ہے۔
اس سے قبل امریکی سیکریٹری سٹیٹ انٹونی بلنکن نے بھی کہا کہ سرحدوں پر روسی دستوں میں اضافہ ’روسی جارحیت کا پریشان کن عندیہ ہیں۔‘
امریکی بیان کے بعد روسی رد عمل
جیک سلیوین کی پریس بریفنگ کے بعد اقوام متحدہ میں روس کے نائب سفیر دمتری پولیانسکی نے رد عمل میں کہا کہ کچھ معقول لوگ یہ امید کر رہے تھے کہ امریکہ کی جانب سے ایسا پھیلایا گیا پراپگینڈا کچھ کم ہو جائے۔
’لیکن اس کو نظر لگ گئی اور اب انھوں نے دوبارہ شروع کر دیا ہے۔ ہماری فوج ہماری اپنی سرزمین پر ہے اور میں سوچتا ہوں کہ کیا امریکہ تو کہیں یوکرین پر حملہ نہ کر دے، پریشانی پھیلانے کی اتنی مہم چلا دی ہے کہ اب کسی کو تو حملہ کرنا ہی ہوگا۔‘
وائٹ ہاؤس کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ہفتے کے روز امریکی صدر جو بائیڈن اپنے روسی ہم منصب صدر پوتن سے ٹیلیفون پر بات کریں گے۔
اس کے علاوہ روسی خبر رساں اداروں کے مطابق پوتن اسی روز فرانس کے صدر میخواں سے گفتگو کریں گے۔




