وفاقی وزیر قانون سے یونیورسٹی آف لندن کے وفد کی ملاقات، قانونی تعلیم میں شراکت داری پر اتفاق
عسکر انٹرنیشنل رپورٹ
اسلام آباد: وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ سے یونیورسٹی آف لندن کے پرو وائس چانسلر (تعلیم) پروفیسر فلپ آل مینڈنگر کی قیادت میں ایک وفد نے ملاقات کی، جس میں قانونی تعلیم کے شعبے میں تعاون اور شراکت داری کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں یونیورسٹی آف لندن کے علاقائی مشیر سعد وسیم اور ڈائریکٹوریٹ آف لیگل ایجوکیشن کے ڈائریکٹر بیرسٹر اسامہ ملک بھی شریک تھے۔ گفتگو کا مرکز بین الاقوامی تعلیمی اداروں اور مقامی جامعات کے درمیان مشترکہ اور شراکت داری پر مبنی تعلیمی پروگرامز کے ذریعے تعاون کو مضبوط بنانا رہا۔
وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ اس نوعیت کے اشتراک سے قانونی تعلیم کے معیار میں بہتری، پائیدار آمدنی کے مواقع اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ اسناد تک رسائی میں اضافہ ممکن ہوگا۔ انہوں نے فاصلاتی تعلیم اور کیمپس میں تعلیمی سرگرمیوں کے امتزاج کی اہمیت پر بھی زور دیا تاکہ طلبہ مقامی قانونی فریم ورک کے اندر مؤثر طور پر پریکٹس کے قابل ہو سکیں۔
بیرسٹر اسامہ ملک نے وزیر کو آگاہ کیا کہ ڈائریکٹوریٹ آف لیگل ایجوکیشن کے مشورے پر پاکستانی لاء ماڈیول کو یونیورسٹی آف لندن کے ایل ایل بی (آنرز) نصاب میں شامل کیا گیا ہے، جس سے پاکستان میں یونیورسٹی آف لندن کے قانون گریجویٹس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر دور رس مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
ملاقات میں فیکلٹی ڈویلپمنٹ اور صلاحیت سازی، بشمول فیکلٹی ایکسچینج اور تربیتی پروگرامز پر بھی غور کیا گیا۔ پروفیسر فلپ آل مینڈنگر نے تعمیری گفتگو پر شکریہ ادا کیا جبکہ وفاقی وزیر قانون نے بامعنی اور طویل المدتی تعلیمی شراکت داری کے لیے پاکستان کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
Comments are closed.