کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ کی زیر صدارت کوئٹہ شہر کی خوبصورتی، ٹریفک کے نظام کی بہتری ،ترقیاتی منصوبوں پر کام کی پیشرفت اور دیگر مسائل کے حل کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا

17

کوئٹہ 11جولائی:۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ کی زیر صدارت کوئٹہ شہر کی خوبصورتی، ٹریفک کے نظام کی بہتری ،ترقیاتی منصوبوں پر کام کی پیشرفت اور دیگر مسائل کے حل کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں ڈویژنل ڈائریکٹر ڈوپلیمنٹ کوئٹہ ظہور احمد، چیف آفیسر واسا محمد رمضان، چیف آرکیٹیکٹ ایم سی کیو اسحاق مینگل، ڈپٹی پراجیکٹ ڈائریکٹر کوئٹہ ڈیولپمنٹ پیکج عابد محمود، ڈائریکٹر ورکس کیو ڈی اے عبدالمناف، ڈائریکٹر کوارڈینیشن کیو ڈی اے وسیم طاہر اور سیکرٹری اوریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کوئٹہ محمد علی کے علاوہ دیگر متعلقہ مکوں کے افسران بھی موجود تھے۔اجلاس میں کمشنر کوئٹہ ڈویڑن کو مختلف محکموں کی جانب سے ترقیاتی اسکیمات ،پلاننگ،کارکردگی اور اٹھائے گئے اقدامات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے ڈپٹی ڈائریکٹر کوئٹہ ڈیویلپمنٹ پروجیکٹ نے بتایا کہ کوئٹہ ڈیویلپمنٹ پروجیکٹ کے تحت شہر کی بہتری اور ٹریفک کے نظام کے لیے متعدد ترقیاتی منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے، سریاب روڈ، ریڈیو ٹاور روڈ ،لنک بادینی روڈ، جوائنٹ روڈ، سبزل روڈ ،انسکمب روڈ ،سرکی روڈ، سریاب روڈ کی اندرونی سڑکیں، ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ کی عمارت اور شہر میں چھ سپورٹس کمپلیکسز کی تعمیر کا کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ ایئرپورٹ روڈ کی بیوٹیفکیشن سمنگلی روڈ کی اپگریڈیشن، اسپنی سبزل چوک پر انڈر پاس کی تعمیر، کڈنی سینٹر سے ایئرپورٹ روڈ تک رابطہ سڑک کی تعمیر، زرغون روڈ کی چوڑائی اور سریاب پروجیکٹ کی سروس روڈ کی تعمیر مختلف مراحل میں جاری ہے اس کے علاوہ موجودہ پی ایس ڈی پی میں شہر کی بہتری کے لیے متعدد منصوبے شامل کیے گئے ہیں ان منصوبوں کی تکمیل سے جہاں شہر کی خوبصورتی میں اضافہ ہوگا وہی ٹریفک کے نظام میں بھی بہتری واقع ہوگی۔اجلاس میں میٹروپولیٹن کارپوریشن کی جانب سے شہر میں تجاوزات کے خاتمے کے حوالے سے کاروائیاں اور سی بی ڈی ایریا میں نو پارکنگ کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں بریفنگ دی گئی جبکہ انہیں شہر میں ریڈھوں کی تعداد اور مخصوص جگہوں پر کھڑی کرنے کے حوالے سے آئندہ اجلاس میں تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔ اجلاس کو بلوچستان ٹریفک انجینئرنگ بیورو کی جانب سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ شہر میں ٹریفک کے نظام کی بہتری کے لیے شہر کے 33 پوائنٹس پر ٹریفک مینجمنٹ کے حوالے سے اقدامات کیے جا رہے ہیں شہر میں ٹریفک سگنلز کی بحالی ،سڑکوں کی چوڑائی اور سی بی ڈی ایریا میں الیکٹرک وہیکل چلانے جیسے منصوبوں سے ٹریفک کی روانی میں بہتری اور رش کے اوقات میں ٹریفک جام کے مسائل سے چھٹکارا حاصل ہوگا۔ اجلاس میں واسا کی جانب سے پانی کی فراہمی ،غیر قانونی ٹریلوں کے خلاف کاروائی اور زیر زمین پانی کی سطح کو مانیٹرنگ کرنے کے حوالے سے اقدامات پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ کوئٹہ میں پانی کی روزانہ طلب چھ کروڑ گیلن سے زائد ہے جبکہ صرف چار کروڑ گیلن پانی فراہم کی جا رہی ہے، غیر قانونی ٹیوب ویلوں کی وجہ سے شہر میں زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک گر چکی ہے۔ زیر پانی کی سطح کو بحال کرنے کے لیے ریچارج پوائنٹس ناگزیر ہے۔ ویسٹ واٹر مینجمنٹ کے حوالے سے ایک پلانٹ فعال ہے لیکن وہ صرف کوئٹہ پروجیکٹ کو پانی فراہم کر رہا ہے۔اجلاس کے آخر میں کمشنر کوئٹہ ڈویڑن نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے تمام متعلقہ ادارے اور محکمے باہمی تعاون اور اشتراک کو فروغ دیں تاکہ ترقیاتی منصوبوں کی پائیدار اور بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جا سکے۔ شہر میں ٹریفک کے نظام کی بہتری کے لیے جامع منصوبہ بندی اور دیرپا اقدامات کیے جائیں۔ زیر زمین پانی کی سطح کو بحال کرنے کے لیے ریچارج پوائنٹس کی تعمیر اور غیر قانونی ٹیوب ویلوں کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے۔انہوں نے شہر میں گندے پانی کو صاف کر کے پارکس، درختوں اور سبزات کو پانی دینے کرنے کے لیے اقدامات پر زور دیا جبکہ کوئٹہ میں زرعی مقاصد کے لیے پینے کے صاف پانی کے استعمال کو روکنے کے حوالے سے تمام متعلقہ محکمے پلان مرتب کریں تاکہ زیر زمین صاف پانی کے ذخائر کو محفوظ بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ شہر کی بہتری اور ٹریفک کے نظام کو بہتر کرنے کے لیے سخت اقدامات اٹھائے کے علاو¿ہ جوائنٹ روڈ اور دیگر علاقوں میں موجود ریڑھوں کی تعداد اور مخصوص جگہوں پر کھڑی کرنے کے حوالے سے اقدامات کیے جائیں گے۔

Comments are closed.