وزیراعظم آزادحکومت ریاست جموں و کشمیر چوہدری انوارالحق کی زیرصدارت ہائیر ایجوکیشن کے حوالے سے اجلاس منعقدہ ہوا
مظفر آباد ( پی آئی ڈی ) 11/جون: وزیراعظم آزادحکومت ریاست جموں و کشمیر چوہدری انوارالحق کی زیرصدارت ہائیر ایجوکیشن کے حوالے سے اجلاس منعقدہ ہوا۔ اجلاس میں موسٹ سینئر وزیر کرنل ریٹائرڈ وقار احمد نور ، وزیر ہائیر ایجوکیش ظفر اقبال ملک اور سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن چوہدری محمد طیب بھی موجود تھے ۔ اجلاس میں وزیر ہائیر ایجوکیشن ظفر اقبال ملک کی جانب سے وزیراعظم آزادکشمیر چوہدری انوارالحق کو محکمہ ہائیر ایجوکیشن کے ریسورسز ، محکمہ کی عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق ضروریات ، درپیش مسائل ، جدت ، جدید تعلیم کے حصول کے لیے اقدامات اور مستقبل بارے حکمت عملی سمیت دیگر امور پر تفصیلی بریفنگ دی ، اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم آزادکشمیر چوہدری انوار الحق نے کہا کہ وسائل کو نسل نو کے بہترین مستقبل کے لیے صرف کرنا ہوگا ، اداروں میں اصلاحات لاکر خسارے میں جانے والے اداروں کو منافع بخش بنایا ہے ، تعلیم ہی ترقی کی راہ ہے ، نوجوان نسل کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے موجودہ حکومت اقدامات اٹھاتی رہے گی ، مفاد عامہ کے لیے ہی کام کیا ہے اور مفاد عامہ کی خدمت ہی موجودہ حکومت کا مشن ہے ، تعلیم بنیادی ضرورت ہے ، دنیا میں شناخت برقرار رکھنے کے لیے ہمیں تعلیمی اداروں میں انتظامی اور نصابی اصلاحات لانا ہوں گی ، تعلیمی انتظام و انصرام مؤثر ہو گا تو چیزیں درست سمت کی طرف جا سکیں گی ، بے روزگاری کے خاتمہ کے لیے اقدامات اٹھائے ہیں، مستقبل کے درپیشن چیلنجز کو سامنے رکھتے ہوئے نسل نو کی تربیت کرنا ہو گی۔ خدمت کے مشن کو جاری و ساری رکھیں گے ، انھوں نے کہا کہ اداروں کو حقیقی طور پر دانش گاہیں بنائیں گے، جن سے مستقبل میں نوید سحر کے باب پھوٹ سکیں ، انھوں نے کہا کہ حکومت نے میرٹ اور بائیومیٹرک سے ایجوکیشن کی کارگردی کو بہتر بنایا ہے ، ہماری حکومت کے کارہائے نمایاں میں این ٹی ایس کے ذریعے بھرتیاں پی ایس سی کو فعال کرنا ہے جس کی بدولت میرٹ کو فوقیت ملی اور عام آدمی کو بھی مساوی شرائط پر نوکری حاصل کرنے کا مواقع ملے ، بہتری کارکردگی کو مشن بنا کر تسلسل کے ساتھ امور کو انجام دینے اور عوام کی خدمت کے لیے ادارے متحرک رہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں نے نظام سے خامیوں کا خاتمہ کیا ہے اور حق داروں کے حقوق کے حصول کے لیے اقدامات اٹھائے ہیں ۔
Comments are closed.