وفاقی وزیر و صدر پاکستان مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا انجینئرامیرمقام سے انکے دفتر اسلام آباد میں تحصیل واڑئی ، اپر دیر سے تعلق رکھنے والے اقوام سلطان خیل اور پائندہ خیل کے مشران پر مشتمل گرینڈ جرگہ نے ملاقات کی

28

اسلام آباد۔ وفاقی وزیر و صدر پاکستان مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا انجینئرامیرمقام سے انکے دفتر اسلام آباد میں تحصیل واڑئی ، اپر دیر سے تعلق رکھنے والے اقوام سلطان خیل اور پائندہ خیل کے مشران پر مشتمل گرینڈ جرگہ نے ملاقات کی۔

ملاقات میں مرزو خیل قوم کے صدر و معروف کاروباری و سماجی شخصیت فاروق خان، پرائم منسٹر یوتھ پروگرام کے ڈوژنل کوارڈینیٹر ملک نعمان خان، مسلم لیگ ن تحصیل واڑئی کے صدر ملک امیرنواز خان، ملک مظفر خان ، ملک و صیت، حاجی محمد نظیر ، عمر زیب ، سرتاج الدین ، جھانگیر میرزوخیل ، میرزو لطیف ، طارق میرزوخیل ،خونہ گل خان سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے مشران موجود تھے۔

وفد کے اراکین نے وفاقی وزیر کو تحصیل واڑئی کے مختلف مسائل سے وفاقی وزیر کو آگاہ کیا جبکہ بالخصوص سب نے خال دیر روڈ کے متبادل روڈ بنانے کا مطالبہ کیا۔
وفاقی وزیر نے جرگے کو خوش آمدید کہا اور کہا کہ یہ دفتر خیبرپختونخوا کے عوام کا سیاسی وابستگیوں سے بالاتر دفتر ہے اور وفاقی حکومت میں خود کو خیبرپختونخوا کے عوام کا نمائندہ سمجھتا ہوں۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ جس دور میں بس چلا بلا امتیاز دیر کی عوام کی خدمت کی ہے، خواہ وہ بجلی کے مد میں ہو، نادرا یا پاسپورٹ دفاتر کے مد میں ہو یا پل و سڑک کی مد میں ہو۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ چونکہ میں صوبائی حکومت کا حصہ نہیں ہوں، اور ننانوے فیصد محکمے صوبائی حکومت کے زیر نگرانی ہوتے ہیں۔ تاہم مخصوص روڈ کیلئے این ایچ اے حکام کو ہدایات جاری کررہاہوں کہ وہ جائے اور موقع پر سروے فیزیبیلٹی پر کام کریں اور جامع رہورٹ پیش کریں، پی سی ون بنانے کے بعد وزیراعظم پاکستان کیساتھ منظوری کیلئے بھرپور کوشش کرونگا۔
انہوں نے کہا کہ میں ویسے ہی اپنے آپکو آپ کا نمائندہ سمجھتا ہوں تاہم صدر مرزو خیل قوم فاروق خان کے عوامی جذبے کو بھی داد دینا چاہتا ہوں۔
اور امید رکھتا ہوں کہ وہ عوامی خدمت کا جذبہ لیکر آئندہ انتخابات میں عوام کے سامنے پیش ہونگے تاکہ پارلیمنٹ کا حصہ بن کر عوام کی خدمت کرسکے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ بہت جلد اپر اور لوئر دیر میں بجلی، گیس و نادرا دفاتر کے منصوبے اور دفاتر کا باقاعدہ کیلئے دورے کرونگا۔

Comments are closed.