27ویں آئینی ترمیمی بل تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت اور تفصیلی بحث و مباحثہ کے بعد منظور کیا گیا ، اعظم نذیر تارڑ
اسلام آباد۔10نومبر :وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیمی بل تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت اور تفصیلی بحث و مباحثہ کے بعد منظور کیا گیا ہے، اس ترمیم کے حوالہ سے تمام سیاسی جماعتوں نے اپنی تجاویز دیں جن کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ پیر کو ایوان بالا کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیمی بل پر کمیٹی نے شاندار کام کیا، تمام جماعتوں نے مکمل یکسوئی کے ساتھ اس پر تفصیلی بحث کی، میثاق جمہوریت پر عمل کرتے ہوئے وفاقی آئینی عدالت قائم کر رہے ہیں، دونوں عدالتیں متوازی نظام پر ہیں، جو چیف جسٹس سنیارٹی کے حساب سے سینئر ہو گا وہی ججز تقرری کمیشن اور سپریم جوڈیشل کونسل کی صدارت کرے گا، متحدہ قومی موومنٹ نے مقامی حکومتوں، عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر ایمل ولی خان نے صوبہ خیبرپختونخوا کے نام کے حوالہ سے، مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر کامل علی آغا نے تعلیم و تحقیق سے متعلق پالیسی سازی میں وفاق کے کردار، بلوچستان عوامی نیشنل پارٹی کے منظور کاکڑ و دیگر نے بلوچستان کی صوبائی اسمبلی کی سیٹوں کی تعداد میں اضافہ، سینیٹر عبدالقادر اور سینیٹر دنیش کمار نے اپنی اپنی تجاویز دیں۔ کمیٹی اجلاس میں بہترین معاونت کرنے پر کمیٹی اور وزارت قانون و انصاف کے عملہ کے شکرگزار ہیں۔ قبل ازیں 27ویں آئینی ترمیمی بل پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے سینیٹر سیّد فیصل سبزواری نے کہا کہ سیاستدانوں کے پاس جب موقع ہو تو میرٹ اور انصاف پر عمل کریں ، مسلح افواج نے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو شکست دی، پاکستان کو افغانستان کا چیلنج درپیش ہے، ہمیں پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا چاہئے، عوام کو اس آئینی ترمیم کے ثمرات ملنے چاہئیں۔ سینیٹر خالدہ اطیب نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم میں ایم کیو ایم کی تجاویز کو شامل کیا جائے۔ سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا کہ یہ آئینی ترمیم اصولی اور وفاق کے تحفظ کیلئے ہے۔
Comments are closed.