خیبر میں پاک افغان طورخم بارڈر کی بندش پر گرینڈ جرگہ، قبائلی عمائدین نے بارڈر کھولنے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا

16

عسکر انٹرنیشنل رپورٹ

 خیبر، 10 نومبر:

پاک افغان طورخم بارڈر کی بندش سے پیدا ہونے والی سنگین صورتحال پر تحصیل لنڈی کوتل کے چیئرمین شاہ خالد شنواری کے دفتر میں ایک گرینڈ جرگہ منعقد ہوا۔ جرگے میں قومی مشران، سیاسی و سماجی رہنماؤں، کسٹم کلیئرنگ ایجنٹس، ٹرانسپورٹرز اور مزدور نمائندوں نے شرکت کی۔

جرگے سے خطاب کرتے ہوئے تحصیل چیئرمین شاہ خالد شنواری، عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما شیرین آفریدی، طورخم کسٹم کلیئرنگ ایجنٹس کے صدر مجیب شنواری، ٹرانسپورٹ یونین کے سابق صدر حاجی شاکر آفریدی، ملک ماصل شنواری، معراج الدین شنواری اور اسرار شنواری سمیت دیگر مقررین نے کہا کہ ماضی میں بھی بارڈر پر حالات خراب ہوتے رہے، مگر کبھی بھی اتنی طویل مدت تک بندش نہیں رہی۔

مقررین کا کہنا تھا کہ بارڈر بندش سے روزگار ختم ہو چکا ہے، ٹرانسپورٹرز اور مزدور شدید متاثر ہیں جبکہ قومی خزانے اور خیبر پختونخوا کی معیشت کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔ دونوں ممالک کے حکمران اپنی ضد اور انا کی سیاست میں مصروف ہیں اور غریب عوام کی مشکلات پر کوئی توجہ نہیں دے رہے۔

مقررین نے کہا کہ ماضی میں بھی تنازعات کے وقت قبائلی مشران، تاجران اور سیاسی نمائندے کردار ادا کرتے رہے ہیں، اسی طرح اب بھی دونوں ممالک کے درمیان حالات معمول پر لانے کے لیے گرینڈ جرگہ تشکیل دے کر افغانستان بھیجا جائے تاکہ مشترکہ طور پر بارڈر کھولنے اور عوامی مشکلات میں کمی کے لیے اقدامات کیے جا سکیں۔

واضح رہے کہ آج طورخم بارڈر کی بندش کو 30 دن مکمل ہو چکے ہیں، اور تجارتی سرگرمیاں و پیدل آمدورفت مکمل طور پر معطل ہیں۔

Comments are closed.