خیبر پختونخوا حکومت کے لئے نیا بحران، اہم سیاسی شخصیات نااہلی کے خطرے سے دوچار

16

پشاور (رپورٹ ایم-الیاس ملاخیل) : خیبر پختونخوا حکومت ایک نئے بڑے سیاسی بحران سے دوچار ہوگئی ہے۔ ذرائع کے مطابق 9 مئی کے ہنگاموں میں ملوث اراکین اسمبلی، وزراء اور اراکین پارلیمنٹ کو نااہل قرار دیے جانے کا امکان ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ 25 سے زائد اراکین اسمبلی، صوبائی وزراء اور ایک اعلیٰ عہدیدار اس متوقع فیصلے کی زد میں آئیں گے۔

وزیراعلیٰ ہاؤس میں اس صورتحال پر اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں ایڈووکیٹ جنرل اور تحریک انصاف کے اہم رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس میں یہ تجویز سامنے آئی کہ 9 مئی کے واقعات کی تفتیشی افسران کو تبدیل کرکے نئی تحقیقات کرائی جائیں، تاہم پولیس حکام نے اس تجویز کو سختی سے مسترد کردیا۔ پولیس کا مؤقف ہے کہ قانونی ضابطوں کے مطابق ایک بار چالان جمع ہونے اور فردِ جرم عائد ہونے کے بعد دوبارہ تفتیش کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔

ذرائع کے مطابق اجلاس کے بعد متعلقہ اعلیٰ عہدیدار کو ہدایت دی گئی کہ سیاست دانوں کی طرف سے کسی بھی قسم کا قانونی اقدام روک دیا جائے۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام بالآخر صوبائی حکومت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ اگر نااہلی کا فیصلہ سامنے آگیا تو حکومتی بحران میں مزید شدت پیدا ہوگی۔

مزید بتایا گیا ہے کہ متوقع نااہلی کا سامنا کرنے والے بیشتر پارلیمنٹرین کا تعلق پشاور، مردان، ملاکنڈ اور شمالی علاقہ جات سے ہے۔ ذرائع کے مطابق صوبے کا اعلیٰ عہدیدار بھی اس صورتحال کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہے۔

Comments are closed.