استنبول مذاکرات ناکام کیوں ہوئے

18

 قادر خان یوسف زئی

افغانستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات کی تاریخ میں ایک نیا اور تشویشناک باب اس وقت رقم ہوا جب استنبول میں منعقدہ مذاکرات کسی نتیجے تک پہنچے بغیر فی الوقت ناکامی سے دوچار ہو گئے۔ قطر اور ترکی کی ثالثی میں منعقد ہونے والے ان مذاکرات کو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کو کم کرنے اور ایک پائیدار امن کے حصول کی آخری امید سمجھا جا رہا تھا، لیکن جو کچھ استنبول میں ہوا وہ نہ صرف مایوس کن ثابت ہوا۔ مذاکراتی کوششیں اس لیے بے نتیجہ رہیں کہ افغان طالبان کا وفد بنیادی مسائل سے گریز کرتا رہا اور جن مقاصد کے لیے یہ مذاکرات شروع کیے گئے تھے ان سے مسلسل دور بھاگتا رہا۔ پاکستان کا موقف بالکل واضح تھا کہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں کو روکا جائے، خاص طور پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کی جائے، اور اس حوالے سے تحریری ضمانتیں فراہم کی جائیں۔ لیکن افغان رجیم نے نہ صرف یہ ضمانتیں دینے سے انکار کیا بلکہ مذاکرات کے دوران ایسے مطالبات اٹھائے جو دراصل اصل ایجنڈے سے دور لے جانے کی کوشش معلوم ہوتے تھے۔
کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا مسئلہ پاکستان کے لیے محض ایک سیکیورٹی چیلنج نہیں بلکہ ایک وجودی خطرہ بن چکا ہے۔ اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو 2024 میں پاکستان میں 521 دہشت گردانہ واقعات رونما ہوئے جن میں 852 افراد جان سے گئے اور ایک ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔ ان میں سے 358 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے جن میں فوج، پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور دیگر نیم فوجی دستوں کے جوان شامل تھے۔  جو بات اور بھی تشویشناک ہے وہ یہ کہ یہ اعداد و شمار گزشتہ سال کے مقابلے میں ستر فیصد اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں، جو ظاہر کرتا ہے کہ صورتحال بہتر ہونے کی بجائے مسلسل بگڑتی جا رہی ہے۔
ان دہشت گردانہ واقعات میں سے اکثریت خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں رونما ہوئی، جو دونوں افغانستان سے ملحق صوبے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں 295 دہشت گردانہ حملے ہوئے جن میں پانچ سو سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے۔ یہ صوبہ جو کبھی سیاحت اور تجارت کا مرکز ہوا کرتا تھا، آج دہشت گردی کی زد میں ہے۔ سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق 2024 میں پاکستان نے ایک ہزار چھ سو سے زائد شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کو کھویا، جو گزشتہ دس برسوں میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔ یہ وہ دور تھا جب پاکستان سمجھتا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس نے فیصلہ کن کامیابی حاصل کر لی ہے، لیکن ستمبر 2021 میں افغانستان میں افغان طالبان کی واپسی کے بعد سے صورتحال نے ایک نیا اور خطرناک موڑ لے لیا۔ اقوام متحدہ کی متعدد رپورٹس اس بات کی تصدیق کرتی ہیں

Comments are closed.