اہم خبریںبین الاقوامی

طالبان کا مزید 3 صوبوں پر قبضہ، قندوز، طلوقان اور سر پل پر گلیوں میں بھی لڑائی

کابل :  طالبان نے اتوار کو چند گھنٹوں میں شمالی افغانستان کے 3صوبوں قندوز، طلوقان اور سرِپل پر قبضہ کرلیا۔سرِپل پر قبضے کے بعد صوبائی عہدیدار وں اور اہلکاروں نے شہر سے تین کلو میٹر دور واقع فوجی بیس میں پناہ لے لی۔ تین دن میں قبضہ کیے گئے صوبوں کی تعداد 5ہوگئی ۔طالبان نے صوبہ تخار اور دارالحکومت طلوقان پر مکمل قبضے کا دعویٰ کیا، لڑائی کے دوران خواتین اور بچوں سمیت 14 لاشوں کو ہسپتال لایا گیا ۔ادھر افغان حکومت نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ ابھی لڑائی جاری ہے ۔صوبائی کونسل کے رکن نے بتایا کہ طلوقان شہر کی مرکزی جیل سے 500قیدی طالبان نے چھوڑ دیئے ۔صوبہ پکتیا کے ضلع سید کرم میں دھماکے سے 12شہری ہلاک ہوگئے ۔کابل میں وزارت انصاف کے دو پراسیکیوٹرز اور ایک صحافی طوفان عمیری کو قتل کردیاگیا۔قندوز میں موجود خبر رساں ادارے نے بھی طالبان کے اس دعوے کی تصدیق کی ہے ۔نمائندے کے مطابق طالبان نے شہر کی اہم تنصیبات کا کنٹرول سنبھال لیا ۔قندوز کی صوبائی کونسل کے رکن امر الدین ولی نے اے ایف پی کو بتایاشہر کے مختلف حصوں اور گلیوں میں سرکاری افواج اور طالبان کے درمیان دو بدو جنگ جاری ہے ۔ اس دوران کچھ سکیورٹی فورسز ہوائی اڈے کی طرف پیچھے ہٹ گئی ہیں۔دوسری جانب صوبہ سر پل کے ایک قانون ساز نے تصدیق کی ہے کہ طالبان سر پل شہر کے مرکز میں داخل ہو چکے ہیں اور گلیوں میں لڑائی جاری ہے ۔صوبائی کونسل کے رکن محمد حسین مجاہد زادہ نے بتایاطالبان نے فوج کی ایک بٹالین کو شہر کے باہر گھیر لیا ۔ شہر کے سارے حصے طالبان کے کنٹرول میں ہیں۔فون کے ذریعے بات کرتے ہوئے قندوز کے رہائشی عبدالعزیز نے بتایاطالبان شہر کے مرکزی چوک تک پہنچ چکے ہیں۔ جنگی طیارے ان پر بمباری کر رہے ہیں۔ یہاں مکمل افراتفری کا عالم ہے ۔افواج وسیع دیہی علاقوں کے طالبان کے قبضے میں جانے کے بعد اب ملک بھر کے کئی شہروں کے دفاع کے لیے لڑ رہی ہیں۔طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی طیاروں نے قطر سے آکر ہلمند میں ایک اور ہسپتال اور ایک ہائی سکول پر بمباری کرکے انہیں تباہ کر دیا ۔طالبان ترجمان قاری محمد یوسف احمدی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ امریکی فضائیہ نے صوبہ ہلمند میں ایک بڑے صوبائی ہسپتال (صفیان ہسپتال) اور محمد انور خان ہائی سکول کو بمباری کر کے تباہ کر دیا۔طالبان کے مطابق ہلمند میں اریانا ہسپتال، ضلع گریشک میں ایک ہیلتھ کلینک، بوسٹ یونیورسٹی، کئی مساجد اور ایک صرافہ بازار کو گزشتہ ایک ہفتے کے دوران طیاروں سے نشانہ بنایا گیا ۔ اس کے علاوہ دکانیں اور سیکڑوں گھروں پر بھی بمباری کی گئی ۔طالبان ترجمان کے مطابق طالبان شہریوں، شہری تنصیبات اور عوامی مقامات پر ان حملوں کی مذمت کرتے ہیں۔ افغان عوام اور طالبان اپنی پوری طاقت کے ساتھ امریکہ کے خلاف 20 سالہ جہاد کی طرح مضبوطی سے کھڑے رہیں گے اور اپنے مظلوم لوگوں کا بدلہ لیں گے ۔افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے اتوار کی صبح جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘اُن کے جنگجوؤں نے قندوز اور سرپُل پر مسلسل حملوں کے بعد کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور دونوں صوبائی دارالحکومتوں کے تمام سرکاری دفاتر ان کے قبضے میں ہیں۔طالبان کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ قندوز میں انھوں نے بہت سی حکومتی عمارتوں پر قبضہ کر لیا ہے تاہم حکومت کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ سپیشل فورسز بھی شہر میں موجود ہیں اور شرپسندوں سے لڑائی جاری ہے ،جہاں ایک جانب افغانستان کے مختلف شہروں میں طالبان اور حکومتی افواج کے درمیان لڑائی جاری ہے وہیں چاغی کے قریب افغان سرحدی علاقے سیاہ بوز میں افغان طالبان اور ایرانی شدت پسند تنظیم جیش العدل میں جھڑپ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جس میں پانچ طالبان اور دو جیش العدل کے اراکین ہلاک ہو گئے ۔ادھر کابل میں امریکی سفارتخانے نے کہا ہے کہ اگر طالبان بین الاقوامی قانونی جواز کا دعویٰ کرتے ہیں تو مسلسل حملے انہیں ان کی قانونی حیثیت کے قریب نہیں لائیں گے ۔ انہیں اپنی توانائی امن عمل کے لیے وقف کرنی چاہیے نہ کہ ایک فوجی مہم کے لیے ۔‘ایران کے سرحدی محافظوں نے افغان شہریوں کو داخلے کی اجازت نہ دی۔بی بی سی مانیٹرنگ نے ایران کی تولو نیوز ایجنسی کی خبر کا حوالہ دیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ایران کی پولیس نے سرحد پر افغانستان سے بے گھر ہونے والے افراد کو ایران میں داخل ہونے سے روک دیا ہے ۔افغانستان اور ایران کے سرحدی شہر زرنج میں جاری لڑائی کی وجہ سے بہت سے لوگ گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ یہ صوبہ نمروز کا مرکزی شہر ہے اور افغانستان کے جنوبی سرحد پر موجود ہے ۔تولو نیوز نے دو روز قبل اپنی ٹویٹ میں کہا تھا کہ نمروز صوبے میں زرنج شہر سے بہت سے مقامی افراد ایرانی سرحد کی جانب آئے کیونکہ طالبان نے ان کے شہر پر حملہ کر دیا تھا،کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ سرحدی محافظوں نے افغان شہریوں کے ساتھ برا سلوک کیا اور انھیں واپس پلٹنے پر مجبور کیا۔اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) نے افغانستان کی جنگ سے بے گھر ہونے والے لوگوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور افغان بحران کے فوری حل کا مطالبہ کیا ہے ۔عبدالصمد ہلمند کے ان ہزاروں لوگوں میں سے ہیں جو حالیہ لڑائی سے اپنے پیاروں کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ لشکر گاہ میں لڑائی جاری ہے اور آدھے سے زیادہ خاندانوں کو حفاظت کے لیے ضلع میں بھیج دیا گیا ہے ۔ہلمند کے رہائشی نے بتایا کہ ہلمند میں لڑائی میں شدت آنے کے ساتھ ہی اشیائے خورونوش کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ افغانستان میں لڑائی کی تازہ لہر نے عام شہریوں کو ملک بھر میں پھنسا دیا ہے ، کچھ لوگ دن رات خشک زمین پر بھی رہتے ہیں۔اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) نے کہا ہے کہ ملک میں جنگ کی وجہ سے افغانستان میں اندرونی طور پر بے گھر افراد (آئی ڈی پیز) کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے ۔اقوام متحدہ کے سینئر عہدیدار نے افغانستان میں جاری جنگ کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اگر موجودہ بحران کو جلد حل نہ کیا گیا تو بے گھر افراد کی ایک بڑی تعداد موجود ہو گی۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button