خیبر : پاک افغان طورخم بارڈر پر ٹیڈ و ویزے پالیسی نفاذ کے باعث تجارتی سرگرمیاں معطل

19

خیبر : پاک افغان طورخم بارڈر پر ٹیڈ و ویزے پالیسی نفاذ کے باعث تجارتی سرگرمیاں معطل، سینکڑوں مال بردار گاڑیاں پھنسے ہوئے ہیں. فریش فروٹ اور سبزی سے لدھے مال خراب ہونے کا خدشہ ہے. پاک افغان تجارتی سرگرمیاں دن بدن بری طرح متاثر ہونے جارہی ہیں. نام نہاد ٹرانسپورٹ یونین و چیمبرز اس مسئلے پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں. ایف بی آر حکام طورخم بارڈر پر ٹرانسپورٹرز کے ٹیڈ و ویزے پالیسی پر نظرثانی کریں. قاری نظیم گل شینواری

ڈسٹرکٹ پریس کلب خیبر میں جمعیت علمائے اسلام کے سینیئر رہنماء اور طورخم ایکسپورٹ امپورٹ کے سینئر کسٹم کلیرنگ ایجنٹ قاری نظیم گل شینواری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین طورخم بارڈر پر ٹیڈ اور ویزے کے مسائل کی وجہ سے سرحد پر دونوں جانب تاجر بری طرح سے متاثر مال بردار گاڑیاں پھنس چکے ہیں جبکہ اس کے علاوہ دونوں ممالک کی معیشت کو کروڑوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے اسلئے مسائل کے دیرپا حل تک پرانے سسٹم پر تجارت کو فوری طور پر بحال رکھنا چاہیے اور تجارت کی بہتری کیلئے دونوں کو بڑے پن کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ تجارتی سرگرمیاں بحال ہوسکے ان کا کہنا تھا کہ اگر پالیسی ایسی سخت رہی تو تاجر دوسری جانب رخ کرنے پر مجبور ہونگے اور پاکستان تاجر سے افغانستان مارکیٹ ہاتھ سے نکل جائے گی اسلئے ملکی معیشت کو تباہ کرنے کی بجائے اسے مستحکم کرنے کیلئے تجارتی پالیسی میں نرمی و آسانی پیدا کرنا ہوگی . قاری نظیم گل شینواری نے کہا کہ عارضی داخلہ دستاویزات (ٹیڈ) کو پاکستان نے طورخم بارڈر پر لاگو کیا اور افغانستان نے ٹرانسپورٹرز پر ویزے لازم کیا ہے جن کے باعث دو طرفہ تجارت معطل اور دونوں جانب سینکڑوں مال بردار گاڑیاں پھنسے ہوئے ہیں قاری نظیم گل شینواری نے کہا کہ اس گرمی میں فریش آئٹمز پھل اور سبزی سے لدھے گاڑیوں میں مال خراب ہونے کا خدشہ ہے اس لئے اعلیٰ حکام سے طورخم بارڈر پر مسائل کے حل کیلئے کلیدی کردار ادا کرنے کی اپیل کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ درجنوں ٹرانسپورٹ یونین و چیمبرز اس مسئلے میں خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں

Comments are closed.