اہم خبریںبلوچستان

بلوچستان کی قومی شاہراہیں دو رویا نہ ہونے کی وجہ سے خونی شاہراہیں بن گئیں : بشیر احمد بنگلزئی

پچھلے 4 ماہ کے دوران صوبے کی شاہراہوں پر 10 ہزار کے لگ بھگ حادثات میں 120مسافر جان سے گئے ۔ سیکرٹری ٹرانسپورٹ بشیر احمد بنگلزئی نے بتایا کہ کوئٹہ کراچی روٹ پر 316 بسیں چل رہی ہیں اور محکمہ ٹرانسپورٹ نے روڈ ایکسیڈینٹ پر قابو پانے کے لیے بسوں میں ٹریکر نصب کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ سیکرٹری ٹرانسپورٹ نے کہا کہ ہائی ویز  پر  70  فیصد اموات گاڑیوں کے آپس میں ٹکرانے کی وجہ سے واقع ہوتی ہیں جس کی روک تھام ان شاہراہوں کو دو رویا کرنے سے ہی ممکن ہے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ ٹرانسپورٹ ڈرائیوروں کو تربیت دینے کے لیے بلوچستان میں جلد اکیڈمی کا قیام عمل میں لائے گی ۔

دوسری جانب پی پی ایچ آئی بلوچستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عزیزاحمدجمالی نے بتایا کہ اکتوبر 2020 سے  اب  تک بلوچستان کی شاہراہوں پر 9840  ٹریفک حادثات رپورٹ ہوئے جس میں 120  سے زائد افراد جان کی بازی ہارگئے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button