مالی شعبے میں جدت، مالی استحکام اور ضابطہ جاتی نگرانی کے درمیان توازن قائم رکھنے کی کوشش کررہے ہیں،وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی ”ویزا “کے وفد سے ملاقات میں گفتگو

21

 اسلام آباد۔8جنوری  :وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان مالی شمولیت اور جدید مالی آلات و ٹیکنالوجی میں ہونے والی پیشرفت کا بغور جائزہ لے رہا ہے ، جدت، مالی استحکام اور ضابطہ جاتی نگرانی کے درمیان توازن قائم رکھنے کی کوشش کررہے ہیں۔انہوں نے یہ بات جمعرات کویہا ں گلوبل پے منٹ نیٹ ورک ”ویزا “کے وفد سے ملاقات کے دوران کہی۔ وفد کی قیادت وسطی یورپ ، مشرقی ایشیا اور افریقہ کےلئے ویزا کے علاقائی صدر طارق محمود کررہے تھے۔وزیرِ خزانہ نے وفد کا خیرمقدم کیا اور پاکستان کے مالیاتی شعبے کے ساتھ ویزا کی مسلسل شمولیت اور تعاون کو سراہا۔ ملاقات میں پاکستان کے بہتر ہوتے ہوئے معاشی اشاریوں، جاری معاشی استحکام کی کوششوں اور پائیدار و جامع اقتصادی ترقی کے حصول کے لیے حکومت کی ترجیحات پر تبادلہ خیال ہوا۔سینیٹر محمد اورنگزیب نے وفد کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈکے تعاون سے جاری پروگرام کے تحت ہونے والی پیش رفت، بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے حاصل ہونے والی بیرونی توثیق اور حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے سے ا?گاہ کرتے ہوئے کہا کہ اس ایجنڈے میں ٹیکس وتوانائی کے شعبے میں اصلاحات، سرکاری ملکیتی اداروں کی تنظیم نو و بہتری، عوامی قرضوں کے انتظام اور نجکاری شامل ہیں، نجکاری کے عمل کو تیز کرنے کے لیے اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ فریقین نے پاکستان میں ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل کو تیز کرنے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیاجس میں ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ ، ادائیگیوں کے نظام اور حکومتی ادائیگیوں کی ڈیجیٹائزیشن پر خصوصی توجہ دی گئی۔ وزیرِ خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ ڈیجیٹلائزیشن پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے اور وزیراعظم خود اس میں دلچسپی لے رہے ہیں تاکہ حکومت کے تمام شعبوں میں مربوط اور ہم آہنگ عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے جاری اقدامات کا خاکہ پیش کیا، جن میں پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کا قیام، سٹیٹ بینک آف پاکستان کے تحت ادائیگیوں کے نظام میں اصلاحات اور شفافیت، کارکردگی اور عوامی خدمات کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے حکومتی وصولیوں اور اخراجات کی ڈیجیٹائزیشن کی کوششیں شامل ہیں۔ویزا کے وفد نے پاکستان میں بینکوں، فِن ٹیک اداروں اور دیگر متعلقہ شراکت داروں کے ساتھ اپنے روابط کے حوالے سے آگاہ کیا، اور بتایا کہ معاشی استحکام کے باعث اعتماد میں اضافہ ہوا ہے اور ڈیجیٹل ادائیگیوں، مالی شمولیت اور جدت کے فروغ میں دلچسپی بڑھ رہی ہے۔گفتگو میں نقدی کے استعمال میں کمی، فراڈ سے بچاو ¿، چھوٹے اور نینو کاروباروں کی معاونت، کیو آراور ٹیپ ٹو فون حل اور خاص طور پر دوسرے اور تیسرے درجے کے شہروںمیں ادائیگی قبول کرنے کے انفراسٹرکچر کے فروغ کی اہمیت پر بھی بات کی گئی۔وفد نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ادائیگی کے مختلف ذرائع میں انتخاب اور مسابقت برقرار رکھنا جدت کے فروغ، خطرات کے بہتر انتظام اور صارفین و تاجروں کے لیے بہتر نتائج کے حصول کے لیے نہایت اہم ہے۔ملاقات میں ابھرتے ہوئے شعبوں پر بھی گفتگو کی گئی، جن میں ترسیلاتِ زر، ای کامرس، بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں سے متعلق سیاحت کے دوران ہونے والے اخراجات، اور ضابطہ شدہ فریم ورک کے تحت بلاک چین اور ڈیجیٹل اثاثوں جیسی نئی ٹیکنالوجیز کے ممکنہ استعمال شامل ہیں۔وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ پاکستان ان پیش رفتوں کا بغور جائزہ لے رہا ہے اور جدت، مالی استحکام اور ضابطہ جاتی نگرانی کے درمیان توازن قائم رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے عوامی قرضوں، ترسیلاتِ زر اور حکومتی ادائیگیوں سمیت ممکنہ استعمال کے مختلف پہلوو ¿ں پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ فریقین نے حکومتی ادائیگیوں کی ڈیجیٹائزیشن اور مالی شمولیت کے اقدامات کے حوالے سے تکنیکی تعاون اور علم کے تبادلے سمیت مسلسل شراکت داری کے عزم کا اعادہ کیا۔ملاقات کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان کے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام، وسیع تر اقتصادی اصلاحات، اور ترقی کے ایجنڈے کی حمایت کے لیے ویزا، وزارتِ خزانہ اور متعلقہ ضابطہ کار اداروں کے درمیان قریبی رابطہ اور ہم آہنگی برقرار رکھی جائے گی۔ویزا کے دورہ کرنے والے وفد میں سینئر وائس پریذیڈنٹ لیلا سرہان، سینئر نائب صدر حکومتی امور جوآن کوبا ،ویزا پاکستان کے کنٹری منیجر عمر خان اور ویزا گورنمنٹ سیلزکے نعمان مجید شامل تھے۔

Comments are closed.