افریدی کا پاک فوج کے خلاف بیان — انتشار، نااہلی اور بدعنوانی کی سیاست کا تسلسل

44

تحریر فاروق شاہ

 پاکستان کی مسلح افواج کے خلاف افریدی صاحب کا حالیہ بیان قومی غیرت، اجتماعی شعور اور ملکی یکجہتی پر ایک شرمناک حملہ ہے۔ یہ کوئی سیاسی اختلاف نہیں بلکہ ایک خطرناک سوچ کا اظہار ہے جو پاکستان دشمن بیانیے کے عین مطابق ہے۔ ایسے بیانات دراصل اس ذہنیت کی علامت ہیں جو اقتدار سے محرومی کے بعد ریاستی اداروں کے خلاف نفرت کو سیاسی ایندھن کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

افریدی جیسے افراد کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ پاک فوج کے وہی سپاہی اس وطن کی سرحدوں پر دن رات پہرا دے رہے ہیں جن کے دم سے یہ ملک قائم ہے۔ ان کی قربانیوں پر انگلی اٹھانا دراصل قوم کے حوصلے، شہداء کے لہو اور پاکستان کے وقار کی توہین ہے۔ دشمن قوتیں ایسے بیانات سے حوصلہ پاتی ہیں اور ملک دشمن عناصر کو اپنے ایجنڈے کی تقویت ملتی ہے۔

افریدی اور ان کی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کا ماضی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ خیبر پختونخوا میں ان کے دورِ حکومت میں کرپشن، اقربا پروری، بدانتظامی اور نااہلی نے اداروں کی بنیادیں ہلا دیں۔ اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے فائلوں میں دفن ہو گئے، تعلیم اور صحت کا نظام تباہی کی طرف گیا، جبکہ پولیس اور سول ادارے سیاسی مداخلت کا شکار بنے۔ ’’نیا پاکستان‘‘ کے نعرے دراصل پرانے سیاسی ہتھکنڈوں کی نئی شکل ثابت ہوئے، اور صوبے میں عوام کو ریلیف دینے کے بجائے انتشار اور مایوسی کا تحفہ دیا گیا۔

افریدی کا تازہ بیان اسی تباہ کن سیاسی رویے کا تسلسل ہے — ایک ایسا رویہ جو قوم کو اپنے محافظوں سے بدظن کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ طرزِ سیاست نہ صرف افسوسناک بلکہ قومی سلامتی کے لیے خطرناک ہے۔ جمہوری معاشروں میں اختلافِ رائے کا حق تسلیم شدہ ہے، لیکن جب تنقید الزام تراشی، اشتعال اور ادارہ دشمنی میں بدل جائے تو یہ آزادیِ اظہار نہیں بلکہ ریاست سے غداری بن جاتی ہے۔

افریدی کو چاہیے کہ وہ پاک فوج اور پوری قوم سے کھلے عام معافی مانگیں۔ پاکستان کے دشمن بہت ہیں مگر اس کے محافظ ایک — پاکستان کی بہادر مسلح افواج۔ تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی کہ وطن کے دفاع کے لیے جان دینے والے سپاہی ہی اصل ہیرو ہیں، نہ کہ وہ سیاست دان جو اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے اداروں پر کیچڑ اچھالتے ہیں۔

افریدی کا ماضی خود اس امر کا گواہ ہے کہ وہ سیاسی موقع پرستی، خودنمائی اور غیر سنجیدہ بیانات کے ذریعے ہر جماعت اور ہر بیانیے سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ کبھی اپنے قائدین کے خلاف بغاوت، کبھی پارٹیاں بدلنے کے اشارے، اور کبھی قومی اداروں پر الزام تراشی— یہ سب ان کے سیاسی کردار کی پہچان بن چکے ہیں۔ اب جب ان کی سیاسی زمین تنگ ہو چکی ہے تو وہ دوبارہ وہی پرانا ہتھیار استعمال کر رہے ہیں: پاک فوج پر تنقید اور عوامی جذبات کو مشتعل کرنا۔ مگر قوم اب باشعور ہے؛ عوام جان چکے ہیں کہ افریدی جیسے افراد دراصل ذاتی مفاد کے اسیر ہیں، جن کی سیاست صرف تب زندہ رہتی ہے جب ملک میں انتشار ہو۔

اب وقت آ گیا ہے کہ قوم ایسے سیاست دانوں کے اصل چہرے پہچانے جو اشتعال، نفرت اور ادارہ دشمنی کے ذریعے اپنی سیاست زندہ رکھتے ہیں۔ قومی مفاد کا تقاضا ہے کہ افریدی جیسے عناصر کو مسترد کیا جائے اور ان قوتوں کے ساتھ کھڑا ہوا جائے جو پاکستان کے استحکام، ترقی اور یکجہتی کے لیے مخلص ہیں۔

Comments are closed.