پشاور میں پی ٹی آئی رہنما صنم جاوید مبینہ طور پر اغوا، وزیراعلیٰ کی ہدایت پر مقدمہ درج

23

ذیلی سرخی:
ایڈووکیٹ حرا بابر کی مدعیت میں تھانہ شرقی میں ایف آئی آر درج، صوبائی حکومت نے تحقیقات کا آغاز کر دیا

پشاور (رپورٹ: ایم۔الیاس ملاخیل):
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما صنم جاوید کو مبینہ طور پر پشاور سے نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی خصوصی ہدایت پر تھانہ شرقی میں ایڈووکیٹ حرا بابر کی مدعیت میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق واقعہ گزشتہ رات تقریباً ساڑھے دس بجے پیش آیا، جب صنم جاوید آفیسرز میس میں کھانا کھانے کے بعد کینٹ کی جانب جا رہی تھیں۔ اسی دوران دو گاڑیوں میں سوار پانچ نامعلوم افراد نے ان کی گاڑی کو زبردستی روکا اور انہیں اپنے ساتھ لے گئے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے فوری نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو اغوا کاروں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت جاری کی۔ صوبائی حکومت نے کہا ہے کہ واقعے کی مکمل انکوائری جاری ہے اور ملوث افراد کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔

واضح رہے کہ انسدادِ دہشت گردی عدالت لاہور نے 11 اگست 2025 کو صنم جاوید کو 9 مئی 2023 کے تھانہ شادمان جلاؤ کیس میں پانچ سال قید کی سزا سنائی تھی۔ اس سے قبل، 27 اپریل 2024 کو انہیں ریاستی اداروں کے سربراہان کے خلاف سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا پوسٹس کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

صنم جاوید کی بہن فلک جاوید کو بھی گزشتہ ماہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کی فیک ویڈیوز کے کیس میں گرفتار کیا تھا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور جلد ہی واقعے کے تمام حقائق منظر عام پر لائے جائیں گے۔

Comments are closed.