پاکستان اپنے قومی مفاد کے مطابق بین الاقوامی تعلقات کو برقرار رکھے گا — اسرائیل کو تسلیم کرنے کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں، سیکیورٹی ذرائع

22

اسلام آباد، 06 اکتوبر

سیکیورٹی ذرائع نے کہا ہے کہ پاکستان کے بین الاقوامی تعلقات ہمیشہ قومی اور عوامی مفاد پر مبنی رہے ہیں اور رہیں گے۔ پاکستان ہر فیصلہ اپنے ریاستی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے کرتا ہے اور مستقبل میں بھی اسی اصول پر کاربند رہے گا۔

ذرائع کے مطابق معدنیات اور کان کنی کے شعبے میں حقیقی ترقی کے لیے تزویراتی صبر اور خاطر خواہ سرمایہ کاری درکار ہے۔ پاکستان مختلف ممالک، کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے اپنے قدرتی وسائل کی دریافت کو فروغ دے گا۔ چین، امریکہ، سعودی عرب اور دیگر ممالک جو اس عمل میں دلچسپی رکھتے ہیں، ان کے ساتھ شراکت داری زمینی حقائق اور قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ فنانشل ٹائمز میں شائع ہونے والا مضمون دراصل پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) کے ایک مجوزہ خاکے پر مبنی ہے۔ پاکستان کی ساحلی پٹی پر متعدد تجارتی بندرگاہوں کے قیام کے وسیع مواقع موجود ہیں، جن سے ملکی معیشت کو فروغ حاصل ہوگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دنیا کے ممالک ہمیشہ اس نوعیت کی شراکت داریوں کا جائزہ لیتے رہتے ہیں، اور پاکستان ہر سطح پر اپنے مفاد کو مقدم رکھے گا۔

غزہ امن معاہدے پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے سوال پر سیکیورٹی ذرائع نے واضح کیا کہ پاکستان کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
انہوں نے کہا کہ:

> “پاکستان نے اسرائیل کو قبول نہیں کیا، نہ ہی اس حوالے سے کوئی سوچ موجود ہے۔ فلسطینیوں کو ان کا مکمل حق ملنے تک اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت یا تسلیم ممکن نہیں۔”

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی ترجیح اس وقت صرف یہ ہے کہ غزہ میں جاری نسلی کشی اور قتلِ عام فوری طور پر بند ہو، اور مظلوم فلسطینیوں کے لیے ریلیف اور امدادی سامان کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

سیکیورٹی ذرائع نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ بعض سیاسی عناصر اور مجرمانہ نیٹ ورکس کا دہشت گردوں سے باہمی تعلق دہشت گردی کے خاتمے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ تاہم سیکیورٹی فورسز نے بہترین حکمت عملی کے ساتھ اسمگلنگ اور دہشت گردی کے گٹھ جوڑ کو کافی حد تک توڑ دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کے مکمل خاتمے کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر مخلصانہ اور مشترکہ عملدرآمد ناگزیر ہے، جس میں تمام ریاستی اداروں اور اسٹیک ہولڈرز کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

Comments are closed.