معاونِ خصوصی برائے انڈسٹریز و ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی محمد علی قائد نے دنیور نالے سے آنے والے تباہ کن سیلاب کے باعث شدید دریائی کٹاؤ کا شکار ہونے والے علاقے کے آئی یو کھاری کا ہنگامی دورہ کیا۔
دورے کے دوران معاون خصوصی نے ریسکیو کارروائیوں، متاثرہ افراد کے انخلاء اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کیے گئے فوری اقدامات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے بتایا کہ دریا ہنزہ نگر کا رخ آبادی کی جانب مڑنے سے کئی کنال زرعی زمین، تیار فصلیں، پھلدار و غیر پھلدار درخت اور متعدد رہائشی مکانات دریا
برد ہو چکے ہیں۔
معاون خصوصی نے کہا کہ ریسکیو 1122، مقامی رضاکاروں اور سیکیورٹی اداروں کی بروقت کارروائی کی بدولت کوئی جانی نقصان پیش نہیں آیا، جو بروقت اقدام کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
اس موقع پر کمشنر گلگت ڈویژن، ڈپٹی کمشنر، تحصیل و ہیلتھ عملہ، پولیس حکام اور پاک فوج کے جوان بھی موقع پر موجود تھے اور ریسکیو آپریشن میں سرگرم عمل رہے۔
محمد علی قائد نے بتایا کہ جی بی ڈی ایم اے کی جانب سے متاثرین کے لیے کیمپس قائم کیے جا رہے ہیں، جن میں متاثرہ افراد کو راشن، طبی سہولیات اور دیگر بنیادی ضروریات فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے مقامی رضاکاروں کی بے لوث خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جان کی پرواہ کیے بغیر انسانی
خدمت کا جذبہ پیش کیا۔
معاون خصوصی نے کہا کہ اگرچہ دریا کا رخ فوری طور پر موڑنا ممکن نہیں، تاہم مستقبل میں مستقل بنیادوں پر حفاظتی اقدامات اٹھائے جائیں گے تاکہ آبادی کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔
انہوں نے اس موقع پر کہا کہ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کی ہدایات کے تحت تمام ادارے متحرک ہیں اور صوبائی حکومت متاثرین کی بحالی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ:
"ہم اس آزمائش کی گھڑی میں اپنے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔



