صوبائی وزیر خزانہ ومعدنیات میر شعیب نوشیروانی کی زیر صدارت لوکل کونسل فنانس کمیشن کا اجلاس منعقد ہوا

20

صوبائی وزیر خزانہ ومعدنیات میر شعیب نوشیروانی کی زیر صدارت لوکل کونسل فنانس کمیشن کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے لوکل گورنمنٹ نوابزادہ امیر حمزہ زہری، ایڈیشنل چیف سیکریٹری منصوبہ بندی و ترقیات زاہد سلیم، سیکرٹری خزانہ عمران زرکون، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ عبد الروف بلوچ سمیت دیگر حکام نے شرکت کی۔ لوکل گورنمنٹ کو نچھلی سطح تک مؤثر بنانے کے لیے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے جن کے مطابق مقامی حکومت کے نمائندوں اور ملازمین کو دو ماہ کے اندر ایس اے پی (SAP) سسٹم میں شامل کیا جائے گا جبکہ پنشنرز کو بھی اسی نظام کے تحت تنخواہیں و پنشن فراہم کی جائیں گی۔ محکمہ خزانہ اس عمل کو تیز تر اور شفاف بنانے کے لیے ایک خصوصی کنسلٹنٹ فراہم کرے گا جو مقامی حکومت کے ساتھ مل کر چھ ماہ میں تنخواہوں اور پنشن کے ڈیجیٹلائزیشن کا عمل مکمل کرے گا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ صوبے کے تمام مقامی کونسلز کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ بقاجات (Liability) سے گریز کریں اس کے علاؤہ ضلعی اور یونین کونسلز کی جانب سے پیش کی جانے والی نئی مالیاتی ڈیمانڈز کو لوکل فنڈ آڈٹ کے ذریعے جانچنا اور ویریفائی کیا جائے گا تاکہ شفافیت اور مالیاتی نظم و ضبط کو یقینی بنایا جا سکے۔اس موقع پر صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے کہا کہ حکومت صوبے میں مالیاتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس اے پی سسٹم کے تحت تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی سے شفافیت، بروقت ادائیگی اور ریکارڈ کی بہتری ممکن ہو گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مقامی حکومت کی مالیاتی ڈسپلن قائم رکھنا وقت کی ضرورت ہے، اور اس حوالے سے تمام کونسلز اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دیں۔ صوبائی وزیر خزانہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبے کے عوام کو سہولت فراہم کرنے اور مالیاتی نظام کو مستحکم بنانے کے لیے حکومت بھرپور تگ ودو کررہی ہے تاکہ ہمارے صوبے کو مالی طور پر مستحکم کرسکے۔

Comments are closed.