کوئٹہ،تحریک بحالی بی ایم سی کے زیر اہتمام 5 مارچ احتجاجی مظاہرہ

کوئٹہ( این این آئی)تحریک بحالی بی ایم سی کے زیر اہتمام 5 مارچ احتجاجی مظاہرہ بمقام بی ایم سی ہوا۔ مظاہرے سے میر زیب شاہوانی باسط شاہ منظور بلوچ عبدالصمد بنگلزی اور ندیم احمد نے خطاب کیا مقررین نے وائس چانسلر کے طے شدہ مطالبات سے انکار پر تشویش کااظہار کیا کہ یہ امر قابل مذمت ہے کہ طے شدہ نقاط کے تحت سلف فنانس کے سیٹوں کی منسوخی اور ملازمین کی تنخوائیں جاری ہونا تھی مگر وائس چانسلر اپنی ہٹ دھرمی سے مزاکرات کو سبوتاڑ کر رہا ہے اور ملازمین اور طلباء کو دھرنوں و احتجاج پر مجبور کیا جارہا۔ہے انہوں نے کہاکہ اس کے بعد کون سی قوتے مزکرات کے نام پر فریب دینے آئی گی جبکہ اب تک ریاست کے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ہونے والے مزاکرات کو وائس چانسلر نے اپنی ہٹ دھرمی کے بہنٹ چھڑایا ہے ہم نے دلایل کے ساتھ اپنے موقف کو درست ثابت کیا مگر ملازمین و طلباء کااستحصال ہنوز جاری ہے بولان یونیورسٹی اف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز کو کامیاب ادارہ بنانے کے لیے وائس چانسلر اور رجسٹرار کو ہٹایاجانا نا گزیر ہے ۔انہوں نے مطالبہ کیاکہ وائس چانسلر اور رجسٹرارکو فی لفور ہٹایا جائے چونکہ ملازمین و طلباء کے استحصال کے ساتھ ساتھ باربار اعلیٰ حکام کو بھی دھوکہ دے چکے ہیں اگر اعلیٰ حکام یونیورسٹی کی جھوٹی انتظامیہ کی سرپرستی جاری رکھی تو تحریک بھی کسی معاہدے کی پابند نہیں ہوگی اور ایک بار پھر تحریک کااغاز کیا جائے گا جو طبقاتی بنیادوں پر پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے گا دانش مندی کا تقاضہ ہے کہ ثالیثن وائس چانسلر اور رجسٹرارکو فوری برطرف کرے اور ہمیں دوبارہ احتجاج پر مجبور نہ کیا جائے ہم اپنے حقوق سے کسی صورت دستبردار نہیں ہونگے یونیورسٹی کی جھوٹی انتظامیہ کو بار بار دھوکے دینے کے باوجود ریاستی سرپرستی ملازمین محنت کشوں اور طلباء کو دیورا سے لگانے کے مترادف ہے اور یہ پیغام دیا جارہا ہے کہ اعلیٰ حکام سرمایہ داروں اشرفیہ کا گھٹ جوڑ عوامی دشمنی پر متحد ہے ایسے میں ہمارے پاس ملک گھیر احتجاج کے سوا کوہی راستہ نہیں بچتا اور تحریک بحالی یہ سمجھنے میں حق بجانب ہوگی۔کے مزاکرات کا ڈھونگ صرف دھرنہ۔ختم کرنے اور ملازمین و طلباء میں پھوٹ ڈالنے کی کوشیش تھی۔جیسے تحریک۔اپنے اتحاد سے ناکام بنائے گی۔طلباء مزدور اتحاد نء۔تاریخ رقم کرے گا ہمارر تحریک کا اتحاد ختم کرنے کا سوچنے والوں کی خام خیالی ہے جو کھبی پوری نہیں ہوگی تحریک کا دہرا مذید وسیع کیا جائے گا تمام مزدور طلباء دوست تنظیمیںشامل ہونے کو تیار ہیں دبارہ احتجاج کابھر پور اغاز کی ذمہ داری یونیورسٹی انتظامیہ اور مزاکراتی ثالیثین پے ہوگی۔


