بدلتی دنیا، خاموش جنگیں اور عالمی ضمیر

19

عسکر انٹرنیشنل رپورٹ / فیچر آرٹیکل
تحریر: محمد زیب، پشاور
دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں طاقت اکثر اصولوں پر حاوی ہے اور ذاتی مفاد انسانیت سے بڑھ کر نظر آتا ہے۔ جدید دور کی جنگیں اب صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہیں؛ یہ اب معیشت، سفارتکاری، پابندیاں اور میڈیا کے ذریعے بھی لڑی جا رہی ہیں۔ گولیاں کم چلتی ہیں، مگر نقصان کہیں زیادہ اور خاموشی سے برداشت کیا جاتا ہے۔
عالمی طاقتیں انسانی حقوق کے بارے میں بلند آواز میں بات کرتی ہیں، مگر ان کا اطلاق یکساں نہیں ہوتا۔ بعض بحران عالمی خبروں کی سرخی بنتے ہیں، جبکہ روزانہ کے انسانی نقصان کو صرف اعداد و شمار میں شمار کیا جاتا ہے۔ مسئلہ صرف ظلم کی شدت کا نہیں، بلکہ مظلوم کی شناخت اور اس کے حقوق کے تحفظ کا ہے۔ بین الاقوامی ادارے، جو کبھی انصاف اور امن کی علامت سمجھے جاتے تھے، اب اپنی محدود مؤثریت کی وجہ سے تنقید کا نشانہ ہیں۔ ویٹو پاور اکثر چند طاقتور ممالک کے مفادات کو مقدم رکھتی ہے، جس سے کمزور ریاستیں اور عام شہری سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ، یوکرین، افریقہ یا جنوبی ایشیا—کہانیاں مختلف ضرور ہیں مگر انسانی درد سب کے لیے یکساں ہے۔ جنگ کے فیصلے دور دراز ایوانوں میں ہوتے ہیں، مگر قربانیاں گلیوں اور بازاروں میں دی جاتی ہیں۔ عام انسان، جو نہ جنگ چاہتا ہے نہ سیاست، ہمیشہ سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔
عالمی میڈیا، جو کبھی سچ کی آنکھ سمجھا جاتا تھا، اب اکثر طاقت کے زاویے سے حقائق پیش کرتا ہے۔ کچھ سانحات سرخیوں میں آ جاتے ہیں اور کچھ خاموشی سے دفن ہو جاتے ہیں۔ یہ انتخابی سچ عالمی ضمیر کی خاموشی کو مزید مستحکم کرتا ہے، کیونکہ جب حقیقت ادھوری ہو تو انصاف بھی ادھورا رہتا ہے۔
پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ وقت محض شکایت کرنے کا نہیں بلکہ واضح، اصولی اور باوقار قیادت دکھانے کا ہے۔ پاکستان کو عالمی فورمز پر وقتی مفادات کے بجائے مستقل اصولوں کی بنیاد پر بات کرنی ہوگی۔ دنیا انہی قوموں کی سنجیدگی سے سنتی ہے جو اپنی آواز پر یقین رکھتی ہیں اور اخلاقی معیار کو برقرار رکھتی ہیں۔
آج دنیا کو اسلحے سے زیادہ انصاف، طاقت سے زیادہ اخلاقیات، اور مفادات سے زیادہ انسانیت کی ضرورت ہے۔ پاکستان اپنی مضبوط تاریخ، اصولی قیادت اور عوامی جذبے کے ساتھ مثال قائم کر سکتا ہے—انصاف کی حمایت، انسانی حقوق کے تحفظ اور اخلاقی سفارتکاری کو فروغ دے کر۔ اگر عالمی ضمیر خاموش رہتا ہے تو آنے والی نسلیں ایک ترقی یافتہ مگر بے حس دنیا دیکھیں گی۔
شاید یہی تاریخ کا سب سے سخت فیصلہ ہوگا، لیکن وہ قومیں جو حوصلے، اصول اور انسانیت کے ساتھ عمل کرتی ہیں، ایک ایسا ورثہ چھوڑیں گی جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ بنے گا۔

Comments are closed.