سکھر ڈویژن میں سیلابی صورتحال: اعلیٰ سطحی دورے، ہنگامی اقدامات اور ریسکیو آپریشن
Report. Sarwar samejo
دریائے سندھ میں پانی کی خطرناک سطح کے باعث سکھر ڈویژن میں مکمل سیلابی ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ صوبائی حکومت، ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں نے جان و مال اور فصلوں کو بچانے کے لیے بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کر دیے ہیں۔ اعلیٰ سطحی دوروں، مسلسل نگرانی اور چوبیس گھنٹے جاری ریسکیو و ریلیف سرگرمیوں کے ذریعے حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن تحفظ فراہم کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ کا سکھر بیراج کا معائنہ
31 اگست کو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ صوبائی وزراء سید ناصر حسین شاہ، شرجیل انعام میمن اور جام خان شورو کے ہمراہ سکھر بیراج پہنچے۔ وزیراعلیٰ نے کچے بندوں کو مضبوط بنانے، جیوبیگز اور پتھر ڈالنے، اور پاک بحریہ و پی ڈی ایم اے کی کشتیاں تعینات کرنے کی ہدایات دیں۔
ضلعی کونسل اور مقامی حکام کی سرگرمیاں
چیئرمین ضلعی کونسل سکھر سید کمیل حیدر شاہ اپنی ٹیم کے ہمراہ متاثرہ خاندانوں کے لیے انتظامات کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں اور کچے کے علاقوں سے لوگوں کو کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کر رہے ہیں۔
کمشنر سکھر عابد سلیم قریشی نے بھی بندوں اور کچے کے علاقوں کا دورہ کیا، متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی اور ریلیف کیمپوں میں سہولیات کا معائنہ کیا۔ ڈپٹی کمشنر سکھر نادر شہزاد خان نے متاثرہ دیہاتوں کا دورہ کیا اور ریسکیو 1122 ٹیموں کی مدد سے درجنوں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔
میئر و ترجمان حکومت سندھ بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے بھی بندوں کا دورہ کیا اور ہنگامی انتظامات کا جائزہ لیا۔
وزیر آبپاشی کی تکنیکی میٹنگ
یکم ستمبر کو وزیر آبپاشی جام خان شورو نے انجینئروں کے ساتھ اجلاس کیا جس میں دریائے سندھ کے اخراج کے اعداد و شمار اور پیش گوئیاں زیر غور آئیں۔ مزید مشینری، پمپ اور جیوبیگز تعینات کرنے کے احکامات جاری کیے گئے۔
ہنگامی اجلاس اور ریلیف پلان
کمشنر سکھر کی زیر صدارت اجلاس میں چیئرمین ضلعی کونسل کمیل حیدر شاہ، میئر بیرسٹر ارسلان شیخ، ڈی آئی جی فیصل عبداللہ چچر اور دیگر حکام نے شرکت کی۔ فیصلے کے مطابق:
155 ریلیف کیمپ قائم کیے جائیں گے۔
24 میڈیکل کیمپ اور 27 ویٹرنری کیمپ لگائے جائیں گے۔
3280 اہلکار اور ریسکیو ٹیمیں تعینات کی جائیں گی۔
پولیس، رینجرز، فوج اور نیوی کے ساتھ مشترکہ سیکورٹی پلان بنایا گیا۔
حکام کے مطابق 2 لاکھ 24 ہزار سے زائد افراد، 37 ہزار خاندان اور 5 لاکھ سے زیادہ مال مویشی متاثر ہو سکتے ہیں۔
ریلیف اور ریسکیو آپریشن
متاثرہ خاندانوں کو ریلیف کیمپوں میں خوراک، صاف پانی، دوائیں اور پناہ دی جا رہی ہے۔ میڈیکل ٹیمیں پانی سے پھیلنے والی بیماریوں اور سانپ کے کاٹنے کے کیسز کا علاج کر رہی ہیں جبکہ ویٹرنری ٹیمیں مال مویشیوں کو ویکسین اور چارہ فراہم کر رہی ہیں۔
Comments are closed.