کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ کی صدارت میں محکمہ زراعت کے آ فسران کا اجلاس منعقد ہوا
لورالائی ستمبر ۔ کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ کی صدارت میں محکمہ زراعت کے آ فسران کا اجلاس منعقد ہوا جس میں ڈویژنل ڈائریکٹر ریسرچ جمعہ خان ، ڈپٹی ڈائریکٹر ایکسٹنشن غلام محی الدین ، ڈپٹی ڈائریکٹر ریسرچ مولاداد، ڈپٹی ڈائریکٹر کٹوی فارم ، محمد نواز اور انجنئیر عبدالہادی نے شرکت کی۔ ڈویژنل ڈائریکٹر ریسرچ جمعہ خان نے کمشنر کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ لورالائی ڈویژن زیتون کے کاشت کے لئے نہایت موزوں ہیں سالانہ تقریباً ایک لاکھ 45 ہزار لیٹر پیداوار ہوتا ہے اس کے پودے تین چار سال کے فصل دیتے ہیں اس لئے ہر سال اس میں مزید اضافہ ہوگا انہوں نےکہاکہ رواں سال 2لاکھ پودے جبکہ 2013 سے اب تک 24 لاکھ زیتون کے درخت تقسیم کئے گئے ہیں۔ جس میں فری آ ف کاسٹ یا 92 روپے سرکاری رعایتی ریٹ شامل ہیں اس سال اولیو مشین سے 62 لاکھ روپے آمدنی جمع کی ہے کٹوی زرعی فارم کے سے بتایا گیا کہ وہاں پر مختلف اقسام کے درخت ہیں لیکن وہ پانی کی کمی کے باعث پیداوار نہیں دیتے بورنگ صرف 2 گھنٹے چلتا ہے جس درخت خشک ہو نے کا خطرہ ہے ڈپٹی ڈائریکٹر ایکسٹنشن غلام محی الدین نے کہا کہ FAO, وفاقی اور صوبائی محکمہ زراعت مل کر زمینداروں کے لئے زرعی پلاٹ ونرسری لگاتے ہیں اور ہر سال تربیتی پروگرام کراتے ہیں۔ رواں سال بھی 8 زمینداروں کو ٹریننگ دی ہے۔ زراعت شماری کے لئے سٹاف مختص کیا ہے ، زمیندار کو رجسٹرڈ کر کے کسان کارڈ جاری ہوگی جس سے رعایتی نرخوں پر کھاد اور بیج کی فراہمی ہو گی انہوں نےکہاکہ لورالائی میں ٹوٹل 61 سیڈ اینڈ فرٹیلائزر ڈیلر ییں جس میں 4 نا ن رجسٹرڈ 57 رجسٹرڈ ہیں۔ ان کی دوکانیں وقتاً فوقتاً چیک کئے جاتے ہیں۔ کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ نے شرکاءسے کہا کہ حکومت زمینداروں کو ہر ممکن تعاون فراہم کر رہی ہیں سولر سسٹم کی مد میں ہر زمیندار کو 20 لاکھ روپے کی ادائیگی موجودہ حکومت کا بہت بڑا کارنامہ ہے جس سے زرعی پیداوار میں اضافہ ہوگا انہوں نےکہاکہ درخت لگانے کے ساتھ اسے پانی دینا اور حفاظت کرنا بھی ضروری ہیں زرعی فارم کٹوی میں پانی کی کمی دور کرنے کے لئے اعلیٰ حکام سے رابطہ کیا جائے گا کمشنر نے کہاکہ وہ محکمہ زراعت کے تمام شعبوں کا معائنہ کر کے ان کی کارکردگی کا جائزہ لے گا انہوں نے اجلاس میں شریک آ فسران کو اپنے ماتحت سٹاف کو ڈیوٹی کا پابند کرنے کی سختی سے ہدایت کی۔
Comments are closed.