
پشاور(کرائم رپورٹر)پشاور پولیس تھانہ شرقی کی مبینہ غفلت یا اندرونی ملی بھگت کے نتیجے میں خطرناک ڈاکو زرگل عرف زرگلی اپنے دو ساتھیوں سمیت تھانہ کوارٹرز گھوڑا ہاؤس کے مبینہ ٹارچر سیل سے فرار ہو گیا۔
ذرائع کے مطابق زرگلی ورسک کے علاقے کبابان کا رہائشی ہے اور پہلوان پل سمیت شہر کے مختلف علاقوں میں ڈکیتی، رہزنی اور دیگر سنگین وارداتوں میں ملوث رہا ہے۔ اس کے ساتھ فرار ہونے والے ملزمان بھی بینک ڈکیتی، سنچرز اور اسٹریٹ کرائمز میں مطلوب ہیں۔
تشویشناک امر یہ ہے کہ تینوں ملزمان کو باقاعدہ حراست میں رکھا گیا تھا، مگر پولیس کی ناقابل فہم غفلت یا ممکنہ اندرونی مدد سے وہ چار روز قبل فرار ہو گئے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ پولیس تاحال ان کا سراغ لگانے میں ناکام رہی ہے۔
عوامی حلقوں نے پولیس سے سخت سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تھانے جیسے محفوظ مقام سے مجرم فرار ہو سکتے ہیں تو عوام کی جان و مال کس کے رحم و کرم پر ہے؟ کیا یہ محض غفلت ہے یا پولیس کے اندر سے کسی نے دانستہ آنکھیں بند کیں؟
ادھر پولیس ترجمان کا دعویٰ ہے کہ ملزمان اب بھی تھانے میں موجود ہیں، اور ایک پریس ریلیز میں چند مشتبہ افراد کی تصاویر بھی جاری کی گئی ہیں۔ تاہم ذرائع کے مطابق جاری کی گئی تصاویر میں ملزمان کے چہرے ڈھانپے گئے ہیں، جس سے ان کی شناخت ممکن نہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر وہی ملزمان ہیں، تو چہرے کیوں چھپائے گئے؟ اور اگر وہ نہیں، تو اصل فرار ہونے والے کہاں ہیں؟ وقت ہی سچ سامنے لائے گا۔




