
کوئٹہ : بلوچستان اسمبلی کے اپوزیشن رہنماوں نے حکومت کی جانب سے اپوزیشن اراکین کیخلاف درج ایف آئی آر وا پس لینے کے حکومتی دعوی کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت ایف آئی آر واپس لئے جانے کے باوجود ہم احتجاج کا سلسلہ ختم نہیں کریں گے تھانے سے نکلنے کے بعد نئے مالی سال کی پی ایس ڈی پی کو عدالت میں چیلنج کیا جائے گا حکومتی وزرا کی پریس کانفرنس حقائق کے خلاف ہے،ہم صوبے سے لوٹ گھوسٹ کے خاتمے میدان میں نکلے ہیں۔ یہ بات بلوچستان اسمبلی اپوزیشن لیڈر جمعیت علماء اسلام کے رہنما ملک سکندر خان ایڈووکیٹ بلوچستان نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر ملک نصیر احمد شاہوانی، ثناء بلوچ، شکیلہ نوید دہوار اور دیگر نے ہفتے کی شام بجلی روڈ تھانے کے باہر پریس کانفرنس کر تے ہوئے کہی اس موقع پر اپوزیشن کے گرفتاری کے لئے تھانے میں موجود دیگر اراکین اسمبلی اور جماعتوں کے رہنما کارکن بھی موجود تھے۔ اپوزیشن لیڈر ملک سکندر خان ایڈو کیٹ نے کہا کہ ہمارا ہر طرف سے محاصرہ کیا ہوا ہے میڈیا کوکوریج سے روکنا آزادی صحافت کے خلاف ہے، انہوں نے کہا کہ آج جمہوریت اور روایات کی بات کرنے والے حکمران صرف سب اچھا ہے کی رٹ لگانے میں مصروف عمل ہیں تھانے کامحاصرہ کرکے جس طرح اظہار رائے پر بھی قدغن لگادی گئی ہے اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی بلوچستان کے اپوزیشن اراکین نے 13 واں دن بھی بجلی روڈ تھانے میں گزارا انہوں نے کہا کہ جس تھانے میں اپوزیشن اراکین اسمبلی موجود ہیں اس کا ہر طرف سے محاصرہ کیاگیا ہے حکومتی وزراء کی جانب سے کی جانے والی پریس کانفرنس افسوس ناک ہے چاربارانہوں کہاکہ مقدمہ واپس لے لیں گے چھ دن گزر چکے ہیں تا حال مقدمہ واپس لینے کا نوٹیفکیشن نہیں آیا حکومت جھوٹ کاسہارالے رہی ہے اور جھوٹ پر جھوٹ بول رہی ہے پولیس والوں کے ساتھ 13 واں دن بھی گزر گیاہے ہمارا مقصد لوٹ کھوسٹ کا خاتمہ کرنا ہے اور صوبے سے بدعنوانی کو ختم کرنے کے لئے نکلے ہیں بلوچستان میں قانون کی عمل داری کی بجائے جنگل کا قانون نافذ ہے اسے ختم کریں گے اور میرٹ لیکر آئیں گے انہوں نے کہا کہ پی ایس ڈی پی میں اپوزیشن کی تجاویز پر عمل درآمد نہیں ہواحکومت کا ظلم ناقابل برداشت ہے حکومتی وزراء اور ارکان اسمبلی وزیراعلیٰ کے اشاروں پر جھوٹ بول رہے ہیں وزیراعلیٰ نے کئی بار کہا ہے کہ مقدمہ واپس لے لیا ہے مگر مقدمہ واپس لینے کے نوٹیفکیشن کی کاپی کسی کے پاس موجود نہیں ہے انہوں نے کہا کہ جام حکومت غیر منتخب لوگوں کو اربوں روپے کے فنڈز دے کر نواز رہی ہے مختلف حلقوں میں غیر ضروری منصوبوں پر اربوں روپے کے فنڈز ضائع کئے جارہے ہیں اسمبلی اور اسکے باہر کسی حکومتی نمائندے نے اپوزیشن سے مذاکرات نہیں کئے انہوں نے کہا کہ کچھ حکومتی اراکین چند ٹکوں کی خاطر جھوٹ بول رہے ہیں بلوچستان میں آزادی رائے پر قدغن ہے جمہوریت انصاف اور روایات کی بات کرنے والے آج سب کچھ اچھا کا راگ الاپ رہے ہیں پی ایس ڈی پی کے ذریعے کرپشن کی جارہی ہے جسے قبول نہیں کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ ہمارا آج بھی وہی موقف اور مقصد ہے جس کے لئے ہم روز اول سے موجودہ حکومت کے خلاف سراپا احتجاج اور برسر پیکار ہیں ہم اپنے عوام کے حقوق کے حصول صوبے کی تعمیر و ترقی اور عوام میں پائے جانے والے احساس محرومی کو دور کرنے کے لئے کسی قربانی اور جدوجہد سے دریغ نہیں کریں گے عوام کے حقوق کے حصول کے لئے ہر فورم پر اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔اس موقع پر رکن اسمبلی بی این پی ثنا بلوچ کا کہنا تھا کہ صوبے کی نئی پی ایس ڈی پی میں اربوں روپے جعلی اسکیموں کیلئے رکھے گئے ہیں، تھانے سے نکلنے کے بعد نئی پی ایس ڈی پی کو عدالت میں چیلنج کریں گے۔



