ایف پی سی سی آئی کی جانب سے شپنگ اصلاحات پیش فیڈرل منسٹر برائے میری ٹائم افیئرزنے ملک کی اپنی شپنگ لائنز قائم کرنے کا وعدہ کیا ہے. عاطف اکرام شیخ صدر ایف پی سی سی آئی
ایف پی سی سی آئی کی جانب سے شپنگ اصلاحات پیش فیڈرل منسٹر برائے میری ٹائم افیئرزنے ملک کی اپنی شپنگ لائنز قائم کرنے کا وعدہ کیا ہے. عاطف اکرام شیخ صدر ایف پی سی سی آئی
کراچی (4جون 2025): صدر ایف پی سی سی آئی،عاطف اکرام شیخ، نے آگاہ کیا ہے کہ وفاقی وزیر برائے میری ٹائم افیئرز، جنید انوار چوہدری، نے ایف پی سی سی آئی کے اس مطالبے سے اصولی طور پر اتفاق کیا ہے کہ پاکستان کی اپنی ایک مضبوط شپنگ لائن ہونی چاہئے؛کیونکہ، ملک کے تاجر غیر ملکی شپنگ لائنوں کو سالانہ 728 ارب روپے کی ادائیگی کرتے ہیں اور یہ ادائیگی فارن کرنسی میں ہو تی ہے۔ واضح رہے کہ وفاقی وزیر برائے میری ٹائم افیئرز جنید انوار چوہدری نے فیڈریشن ہاؤس کراچی میں ایف پی سی سی آئی کے ہیڈ آفس کا دورہ کیا ہے؛جہاں انہوں نے کاروباری، تاجر اور ٹریڈ باڈیزکے نمائندوں کے ساتھ ایک تفصیلی،انٹرایکٹو اور مشاورتی سیشن کا انعقاد کیا؛ جبکہ اس موقع پر ٹرمینل آپریٹرز، شپنگ لائنز اور کسٹمز ایجنٹس میں سے بڑے اسٹیک ہولڈرز بھی موجود تھے۔اس موقع پر، فیڈرل منسٹر نے متعدد اہم پیش رفتوں سے آگاہی دی اور بتایا کہ شپنگ کے قومی بیڑے کو وسعت دینے کے لیے نئے بحری جہازوں کی خریداری کے ساتھ ساتھ ملک کی اپنی شپنگ لائن کا قیام بھی عمل میں لایا جائے گا۔ساتھ ہی ساتھ، انہوں نے تاجر برادری کے مسائل، خدشات اور شکایات کے فوری حل کے لیے اپنی اوپن ڈور پالیسی کا بھی اعلان کیا۔ جنید انوار چوہدری نے سیشن کو بتایا کہ کراچی پورٹ ٹرسٹ (KPT) نے کامیابی کے ساتھ 100 ارب روپے مالیت کی اپنی زمینیں تجاوزات سے واگزار کروا لی ہیں اور کاروباری برادری کو مشترکہ منصوبوں کے ذریعے کاروباری و تجا رتی سہولیات کے قیام کے لیے KPT کے ساتھ سرمایہ کاری کرنے کی دعوت بھی دی۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے مذکورہ شپنگ لائنز کے قیام کے سلسلے میں مشاورتی عمل کی بابت وزارت بحری امور کو اپنی مکمل حمایت کی یقین دہانی بھی کروائی اور مطالبہ کیا کہ FPCCI کے نمائندوں کو شروع سے ہی اس مشاورتی عمل میں شامل کیا جائے؛ تاکہ اس کو زمینی حقائق اور تا جر برادری کی ضروریات سے ہم آہنگ کیاجا سکے۔سنیئر نائب صدر ایف پی سی سی آئی ثاقب فیاض مگوں نے فیڈریشن کے اس موقف کا اعادہ کیا کہ 1.8 فیصد انفراسٹرکچر سیس،جو کہ سندھ حکومت درآمد کنندگان سے وصول کرتی ہے، اسے بندرگاہوں سے منسلک نیٹ ورکس کے انفراسٹرکچر کی ترقی؛ صنعتی علاقوں؛ تجارتی مراکز اور بلعموم کراچی شہر کی ترقی کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ سنیئر نائب صدر ایف پی سی سی آئی ثاقب فیاض مگوں نے مزید کہا کہ انفراسٹرکچر سیس کی وصولی 300 ارب روپے بنتی ہے اور ان خطیر فنڈز کے ذریعے کراچی اور صوبہ سندھ کے پورے انفراسٹرکچر کو دوبارہ تعمیر اور بین الاقوامی سطح کا بنایاجا سکتا ہے۔وفاقی وزیر برائے میری ٹائم افیئر زجنید انوار چوہدری نے جواباً کہا کہ وہ قومی مفاد اور معیشت کے مفاد میں تاجر برادری کے ساتھ مل کر اس سلسلے میں حکومت سندھ سے بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔سنیئر نائب صدر ایف پی سی سی آئی ثاقب فیاض مگوں نے نشاندہی کی کہ نیٹی جیٹی انٹرچینج ملک کی سب سے بڑی اور مصروف ترین بندرگاہ یعنی کراچی پورٹ کو جانے کا واحد راستہ ہے اور اس پل پر کسی بھی نا گہانی صورت حال یا بحران کی صورت میں ملک کی تجارت ٹھپ ہو سکتی ہے؛ اس لیے کراچی پورٹ تک ٹریفک کو تقسیم کرنے کے لیے متبادل راستہ بنانے کی اشد ضرورت ہے۔نائب صدر ایف پی سی سی آئی آصف سخی نے KPT، SBP، کسٹمز، وزارت بحری امور، تاجر برادری اور کسٹم ایجنٹس کے مابین اجتماعی اور ہم آہنگ اشراک کار کی ضرورت پر زور دیا؛ تاکہ تمام ابہام اور بے ضابطگیوں کو دور کرکے ٹریڈ کو مکمل سہولت فراہم کی جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ کسٹم افسران اس سلسلے میں اپنے اختیارات استعمال کر رہے ہیں؛ لیکن، انہیں کسی بھی رکاوٹ کو دور کرکے تاجروں کو مکمل طور پر سہولت فراہم کرنے کے لیے اہل بنایا جائے۔ نائب صدر ایف پی سی سی آئی امان پراچہ نے مطالبہ کیا کہ بندرگاہوں اور ٹرمینل چارجز کو پاکستانی زمینی حقائق کے مطابق منطقی بناتے ہوئے کم کیا جائے اور انہیں علاقائی سطح پر مسابقتی بنایا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں کاروبار کرنے کی بے تحاشا اور ناقابل برداشت لاگت کی وجہ سے کاروباری برادری پہلے ہی زبردست دباؤ میں ہے اور سہولیات کے لیے وزارت میری ٹائم کی طرف دیکھ رہی ہے۔
بریگیڈیئر افتخار اوپل، ایس آئی (ایم)، ریٹائرڈ۔
سیکرٹری جنرل ایف پی سی سی آئی
Comments are closed.