پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے 18 ویں یوم شہادت پر عظیم الشان جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی دنیا کی پہلی اور پاکستان کی دو بار منتخب ہونے والی خاتون وزیراعظم اور عظیم سیاسی مدبر کو خراج تحسین پیش کیا

21

گڑھی خدا بخش / لاڑکانہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے 18 ویں یوم شہادت پر عظیم الشان جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی دنیا کی پہلی اور پاکستان کی دو بار منتخب ہونے والی خاتون وزیراعظم اور عظیم سیاسی مدبر کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ بی بی شہید کا آخری پیغام مفاہمت تھا، سیاسی جماعتوں کو انتہا پسندی کو چھوڑنا ہوگا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ملک کو درپیش معاشی مشکلات اور بیرونی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلیئے اندرونی سیاسی بحران کے حل کو ناگذیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کو سیاسی تقسیم سے صرف مفاہمت کے بادشاہ صدر مملکت آصف علی زرداری نکال سکتے ہیں۔ میڈیا سیل بلاول ہاوَس سے جاری کردہ پریس رلیز کے مطابق، پی پی پی چیئرمین نےعظیم الشان جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 18 سال گذرنے کے باوجود گڑھی خدابخش میں ہر سال چاروں صوبوں سے لاکھوں لوگ جمع ہوکر شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے قتل میں ملوث قاتلوں اور قوتوں سمیت دنیا کو ایک پیغام دیتے ہیں کہ “کل بھی بی بی زندہ تھیں، آج بھی بی بی زندہ ہے۔” انہوں نے پیپلز پارٹی کی غیرمتزلزل حمایت پر عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ “آپ کے اس ساتھ سے، اس محبت سے، ہمیں طاقت ملتی ہے، اور اس طاقت سے ہم اسلام آباد جاکر آپ کے مسائل کے حل نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔” گڑھی خدا بخش میں منعقد جلسہ عام میں صدر مملکت آصف علی زرداری اور فرسٹ لیڈی بی بی آصفہ بھٹو زرداری سمیت پارٹی کے سینیئر رہنما بھی موجود تھے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے رواں سال مئی میں پاک بھارت جنگ میں افواج پاکستان نے ملک کو ایسی فتح دلوائی جس کو پوری دنیا میں سراہا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اس فتح کو عوام کی جیت قرار دیا اور کہا کہ گڑھی خدا بخش کی قربانیوں کے بغیر یہ جیت ناممکن ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ گڑھی خدابخش کی قربانیوں کی وجہ سے پاکستان ایٹمی قوت بنا اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی وجہ سے ملک کو وہ میزائیل ٹیکنالاجی مِلی جس سے ہم اپنا دفاع کرسکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ جنگ میں جن طیاروں نے بھارت کے 6 جنگی جہاز مار گرائے تھے، وہ بھی صدر پاکستان نے چین سے حاصل کیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اب شکست کے بعد نریندرمودی کہیں غائب ہو چکا ہے، اور بھارتی وزیراعظم پاکستان کے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کا نام سُن کر چپ ہو جاتا ہے۔ پی پی پی چیئرمین نے نشاندھی کرتے ہوئے کہا کہ پاک چین دوستی کی بنیاد بھی قائدِ عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی تھی، جسے بعدازاں شہید محترمہ بینظیر بھٹو اور صدر آصف علی زرداری اپنے اپنے ادوار میں مضبوط سے مضبوط تر بناتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری نے اپنے گذشتہ صدارتی ٹرم میں پاک چین معاشی راہداری (سی پیک) جیسے عظیم منصوبے کی بنیاد رکھ کردوستی کو مزید مضبوط کیا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایک بار پھر 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کو جیالوں کی کامیابی قررا دیا اور کہا کہ اس کے نتیجے میں آئینی عدالت کا قیام ممکن ہوا، جو پارٹی کا منشور اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا عوام سے کیا گیا وعدہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ جیالوں کو جن نقاط پر تحفضات تھے، وہ 27 ویں ترمیم میں شامل نہیں کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی ایک وفاق پرست جماعت ہے اور سنجیدگی سے سیاست کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ وفاق کے مسائل ہمارے مسائل ہیں، اور ہم وفاق کےمعاشی چیلنجز اور پریشانیوں کو دور کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں کے حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے ہم وفاق کو درپیش مسائل بھی حل کیے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ صوبوں کے حقوق چھیننے کے بجائے، انہیں ٹیکس کلیکشن جیسی مزید ذمہ داریاں دی جائیں، اور ہم اس حوالے سے تیار ہیں۔ وفاق کو حیسکو، لیسکو اور پیپکو جیسے اداروں کا بوجھ اپنے کندھوں سے اتار کر صوبوں کے حوالے کرنا چاہیے۔ چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ عوام وفاقی حکومت کے ان دعووں پر سوال اٹھا رہی ہے کہ اگر معیشت ترقی کر رہی ہے تو پھر کیوں ایک عام آدمی معاشی بحران کو جھیل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام مہنگائی، بےروزگاری اورغربت کا مقابلہ کر رہے ہیں، اور بجلی ، گیس، اشیائے ضروریہ سمیت ہر چیز مہنگی ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اداروں میں صلاحیت کا بحران ہے، جبکہ واحد پیپلزپارٹی میں ہی وہ صلاحیت اور منشور ہے جو عوام کومشکلات سے نکال سکتے ہیں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسا انقلابی اقدام اٹھایا، جو آج بھی ملک بھر کی غریب خواتین کیلیے سہارا بنا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2022ع کے سیلاب میں بے گھر خاندانوں کیلیے حکومت سندھ 20 لاکھ گھر تعمیر کر رہی ہے، جن کے مالکانہ حقوق متعلقہ خاندان کی خواتین کو دیے جا رہے ہیں، جو خواتین کو معاشی طور مستحکم بنانے کا ایک اور انقلابی اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ 18 ویں آئینی ترمیم کے بعد، پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے فیصلہ کیا کہ صوبے بھر میں عوام کو علاج معالجہ کی عالمی معیار کی سہولیات سو فیصد مفت فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ آج سندھ کی اسپتالوں میں علاج کیلیے آنے والے مریضوں میں سے 50 فیصد کا تعلق دیگر صوبوں سے ہے، اور ہم ملک کے غریب شہریوں کی خدمت کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ پی پی پی چیئرمین نے سیلاب کے بعد وزیراعظم میاں شہباز شریف کی جانب سے زرعی ایمرجنسی کے نفاذ جیسے اقدامت کو سراہا اور کہا کہ سندھ حکومت صوبے کے کسانوں اور چھوٹے کاشتکاروں کو بینظیر ہاری کارڈ کے ذریعے کھاد اور بیج کی خریداری پر مالی معاونت کر رہی ہے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ملک میں معاشی استحکام کیلیے سیاسی بحران سے نکلنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ 9 مئی جیسے واقعات اور اداروں کو گالی دینا، سیاست کے دائرے مہیں نہیں آتے۔ جیالوں سے پوچھتا ہوں اگر صدر زرداری یا مجھے گرفتار کیا جائے تو کیا میں کور کمانڈر پر حملہ کرنے کا کہتا تو کیا آپ کے ساتھ رویہ سخت نہ ہوتا؟ انہوں نے کہا کہ قائدِ عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کو بنا جواز تختہ دار پر چڑھایا گیااور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو قتل کردیا گیا، لیکن پیپلز پارٹی نے قانون ہاتھ میں اٹھانے کے بجائے سیاسی میدان میں مقابلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ہر جانب سے “نہ کھپے” کے نعرے لگ رہے تھے، لیکن صدر آصف علی زرداری نے “پاکستان کھپے” کا نعرہ بلند کرکے ملک اور وفاق کو بچایا۔ انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ملک میں سیاسی بحران کے خاتمے کیلئے سیاسی جماعتوں کو “سیاسی راستہ” نکالنا ہوگا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ موجود سیاسی تقسیم کے ماحول میں اگر پاکستان کی عوام اور سیاسی جماعتوں کیلیے کوئی ایک فرد قابل قبول اور امید ہے، تو وہ “مفاہمت کے بادشاہ” صدر آصف علی زرداری ہیں۔ یہ کیسے ہونا ہے، یہ کب ہونا ہے، یہ فیصلہ ہمارے بڑے کریں گے۔ ہم تجویز دے سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ عوام کو ریلیف اور ملک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کیا جاسکے۔

Comments are closed.