بتاریخ 12 دسمبر 2025
کراچی: وفاقی وزیر برائے تخفیفِ غربت اور سماجی تحفظ سید عمران احمد شاہ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کے وژن کے مطابق ڈیجیٹل والٹ بنانے جارہے ہیں جس کے ذریعے مستحقین میں پیسے کی تقسیم کا نظام مزید شفاف ہوگا، ڈی جی بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام کے دفتر کا دورہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مستحقین صرف بی آئی ایس پی کے دفاتر سے سمز لیں، ان سمز کا کوئی معاوضہ نہیں ہے، یہ آپ کو بلامعاوضہ دی جائیں گی، مارچ میں ان سمز پر قسط کے پیسے آنا شروع ہوجائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام سندھ کی کارکردگی اطمینان بخش ہے، وزیراعظم شہباز شریف کی خواہش ہے کہ بی آئی ایس پی کفالت پروگرام کے تحت خواتین کو عزت، احترام اور آسانی سے وظیفہ پہنچایا جائے، انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل والٹ میں ایک کروڑ کے قریب مستحقین کے اکاؤنٹس کھل گئے ہیں اور 25 فیصد سمز تقسیم ہوگئی ہیں۔
وفاقی وزیر سید عمران احمد شاہ کا کہنا تھا کہ ہم بی آئی ایس پی کے تحت ایک بینظیر ہنرمند پروگرام تشکیل دے چکے ہیں جو تکمیل کے مراحل میں ہے، جب یہ پروگرام شروع ہوگا تو دیگر ممالک کے ساتھ ایم او یو سائن کریں گے، اپنے بچوں کو وہ ہنر سکھائیں گے جو دوسرے ملکوں میں جاکے ان کے کام آئے اور یہ بچے پاکستان کی تعمیر و ترقی میں مثبت حصہ لے سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایک دن آئے گا جب ہمارے بچے اور بچیاں بےنظیر ہنرمند پروگرام کے ذریعے ہنرمند بن کر بیرون ملک میں کام کریں گے اور پاکستان کا نام روشن کریں گے، ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان دنیا کا ترقی پذیر نہیں ترقی یافتہ ملک بن کر ابھرے اور ہماری عوام خوشحال ہو۔
قبل ازیں ڈی جی بی آئی ایس پی سندھ عدنان الحسن نے وفاقی وزیر کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ صوبہ سندھ میں 25 لاکھ 48 ہزار مستحقین میں رقم تقسیم کی جاتی ہے، 138 مقامات پر ڈیجیٹل والٹ کیلئے سمز تقسیم کی جارہی ہیں، اس مرحلے پر مستحق شخص کی اسکریننگ، سم کی انشورنس اور ایکٹیویشن کا کام جاری ہے، اب تک 5 لاکھ 93 ہزار 958 سمز تقسیم کی جاچکی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ 43 لاکھ 15 ہزار 627 بچوں کو بےنظیر تعلیمی وضائف دیے جارہے ہیں، بےنظیر نشونما پروگرام سے 14 لاکھ 16 ہزار 198 خواتین اور بچے مستفید ہورہے ہیں۔




