اہم خبریںبلوچستان

اٹھارویں ترمیم نے ہماری محرومی کو ختم کرنے کیلئے بڑا کردار ادا کیا: ڈاکٹر مالک بلوچ

کوئٹہ:  سیاسی جماعتوں ‘سول سوسائٹی ‘ماہرین تعلیم ‘ سیکرٹریزاور صحافتی تنظےموں کے رہنما¶ں نے کہا ہے کہ اٹھارویں ترمیم نے ہماری محرومی کو ختم کرنے کیلئے بڑا کردار ادا کیا آئندہ آنے والی این ایف سے میں اٹھارویں ترمیم کا بڑا کردار ہوگا اٹھارویں ترمیم کے حوالے سے طبا وطالبات کو بھی آگاہ کیا جاتا رہا ہے اٹھارویں ترمیم کو نصاب میں شامل کرنے کی ضرورت ہے صوبائی خود مختاری کے حل کیلئے آئین پر عمل درآمد ناگزیر ہے اٹھارویں ترمیم کے باعث اکائیاں مظبوط ہوئیں اٹھارویں ترمیم نے صوبوں کو جوڑا لیکن اختیارات پورے طریقے سے منتقل نہیں ہوئے‘بلوچستان کی شرح آبادی کی رفتار شرح آمدنی سے زیادہ ہے غلط منصوبہ بندی معاشرے کا قتل ہے سول سوسائٹی بھی مزاحمت کرے‘ ان خےالات کا اظہار نےشنل پارٹی کے سربراہ وزےراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ‘ جمعےت علماءاسلام کے مرکزی سےکرٹری اطلاعات سابق سےنےٹر حافظ حسےن احمد ‘پاکستان مسلم لےگ(ق) کے صوبائی صدر شےخ جعفرخان مندوخےل‘ بلوچستان نےشنل پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی ثناءبلوچ‘ سےکرٹری خزانہ نورالحق بلوچ‘ سےکرٹری ہےلتھ دوستےن جمالدےنی‘ سابق سےکرٹری خزانہ محفوظ علی خان‘ پاکستان فےڈرل ےونےن آف جرنلسٹس کے صدر شہزادہ ذوالفقار ‘کوئٹہ پرےس کلب کے صدر رضا الرحمن ‘ اخوت کے چیرمین ڈاکٹر امجد ثاقب‘مجلس فکر و دانش کے مولانا عبدالمتےن اخونذادہ‘ ڈاکٹر لعل محمد کاکڑ اور دےگر نے کوئٹہ پرےس کلب مےں محکمہ خزانہ اور پریس کلب کے زیر اہتمام اٹھارویں ترمیم سے متعلق مذاکرے کا اہتمام کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کےا‘سےمےنار سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ نے کہاکہ اٹھارویں ترمیم نے ہماری محرومی کو ختم کرنے کیلئے بڑا کردار ادا کیا آئندہ آنے والی این ایف سے میں اٹھارویں ترمیم کا بڑا کردار ہوگا اٹھارویں ترمیم کے حوالے سے طبا وطالبات کو بھی آگاہ کیا جاتا رہا ہے اٹھارویں ترمیم کو نصاب میں شامل کرنے کی ضرورت ہے صوبائی خود مختاری کے حل کیلئے آئین پر عمل درآمد ناگزیر ہے اٹھارویں ترمیم کے باعث اکائیاں مظبوط ہوئیں اٹھارویں ترمیم نے صوبوں کو جوڑا لیکن اختیارات پورے طریقے سے منتقل نہیں ہوئے‘بلوچستان کی شرح آبادی کی رفتار شرح آمدنی سے زیادہ ہے غلط منصوبہ بندی معاشرے کا قتل ہے سول سوسائٹی بھی مزاحمت کرے‘جمعےت علما اسلام کے حافظ حسین احمد نے سےمےنار سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ایوب خان نے صوبوں کو نظرانداز کیا محرومیوں کا شکار ہونے والے آج مزاحمت کا راستہ اختیار کرہے ہیں اٹھارویں ترمیم سے قبل پیسہ ٹینکوں میں رکھا جانے لگا اس رقم کا گننے کیلئے بنکوں سے مشین منگونی پڑے وسائل ہڑب کرنے والوں کا احستاب نہ ہوسکا سی پیک ہمارے نام پر آیا لیکن دو رویہ سڑکیں تک نہ بن سکیں اٹھارویں ترمیم پر کیوں عمل نہیں ہوسکا سوال یہ کہ پنجاب کے وسائل پنجاب کے ہیں لیکن بلوچستان کا سونا چاندی اور دیگر معدنیات تک اسکے اپنے نہیں بات کرنے پر غداری کا لقب ملتا یے اسیے حالات نہ کئے جائیں کہ اللہ نزر کے بعد غندہ نزر سامنے آئے‘سےمےنار سے خطاب کرتے ہوئے رکن اسمبلی ثناءبلوچ کا کہنا تھا کہ اٹھارویں ترمیم کو بجٹ کے ساتھ لنک کرنے کی کوشش کی گئی جس ملک میں رہتے ہیں وہاں آئین رہن سہن کے طریقوں کا تعین کرتاہے قانون پر عمل درآمد نہیں ہورہا یہ ملک کا بڑا مسئلہ ہے. بلوچستان اسلئے بیمار صوبہ بن گیا یے کہ آئین پر عمل درآمد نہیں اٹھارویں ترمیم میں بلوچستان کے لوگوں کا خون شامل ہے دو ہزار چار کی باون رکنی کیمٹی نے اٹھارویں ترمیم کے بیج بوئے تھے بلوچستان میں چلنے والی سیاسی تحریکوں نے یہاں کے وسائل کی اہمیت کو اجاگر کیا بلوچستان کو بجلی بنانے اور صنعت لگانے کا اختیار ملا یے اٹھارویں ترمیم نے بہت سارے اختیارات دئے پنجاب اور خیبر پختونخوا اسلئے آگے ہیں کہ انہوں نے حکمت عملی مرتب کی ترقی کے لحاظ سے بلوچستان اتھوپیا کے برابر ہے بلوچستان کا ترقیاتی ایجنڈے کو درست کرنے کی ضرورت ہے اور یہ کام صرف سیاسی قیادت نہیں کرسکتی بلوچستان کے ترقیاتی بجٹ کا 82 فیصد بجٹ سڑکوں پر ہے۔عدالت نے واضع کیا ہے کہ غلط کاموں سے افسران انکار کریں۔بلوچستان کی شرح آبادی کی رفتار شرح آمدنی سے زیادہ ہے غلط منصوبہ بندی معاشرے کا قتل ہے سول سوسائٹی بھی مزاحمت کرے‘سےمےنار سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری خزانہ نورالحق کا کہنا تھا کہ اٹھارویں ترمیم کا این ایف سی ایوارڈ سے موازنہ کیا جائے اگر این ایف سی نہ آتا تو بلوچستان کو جو وسائل مل رہے ہیں وہ آج نہ ہوتے بلوچستان کا بجٹ اٹھارہ ارب کا بجٹ تھا لیکن اب صوتحال مختلف ہے دو ہزار نو دس میں ترقیاتی بجٹ صرف دو ارب تھا اج صرف تعلیم کا بجٹ بارہ ہزار ملین یے البتہ اسی پچاس کروڑ روپے صوبے کا پہلے اپنے وسائل تھے اب 25 ارب ہوچکا ہے۔سوال یہ نہیں کہ رقم کتنی ہے بلکہ سوال یہ یے کہ پالسیی کیا ہے بطور معاشرہ ہماری ترجیحات درست نہیں۔بلوچستان میں اب بھی دس لاکھ بچے اسکول سے باھر ہیں جو بڑا ہوکر تعلیم یا ہنر کے زیور سے محروم یوگا بلوچستان میں حکومت کے متبادل روزگار کا رجحان پیدا کرنے کی ضرورت ہے بلوچستان کو اپنی رقم حکمت عملی سے خرچ کرنا ہوگا آئی ٹی کے شعبے کو ترقی دینے کی ضرورت ہے۔سےمےنار سے خطاب کرتے ہوئے سابق سیکرٹری خزانہ محفوظ علی خان نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم نے ہماری محرومی کو ختم کرنے کیلئے بڑا کردار ادا کیا آئندہ آنے والی این ایف سے میں اٹھارویں ترمیم کا بڑا کردار ہوگا اٹھارویں ترمیم کے حوالے سے طبا وطالبات کو بھی آگاہ کیا جاتا رہا یے اٹھارویں ترمیم کو نصاب میں شامل کرنے کی ضرورت ہے‘سےمےنار سے خطاب کرتے ہوئے صد رپی اےف ےو جے شہزادہ ذوالفقار نے کہاکہ اٹھارویں ترمیم میں مزید ترامیم لانے والے جلد بازی کا مظاہرہ نہ کریں ترمیم کے بعد جو رقم صوبوں کو ملی یہ تاثر ہے کہ یہ کرپشن کی نظر ہوجائے گا۔ پی ایس ڈی پی میں اسکمیات نفرادی حوالے سے بنے لگے بلوچستان میں میگا کرپشن کیس کے اسکنڈل سامنے آنے کے بعد مزید مشکلات پیدا ہوئی بلوچستان میں ترجیع لائیو اسٹاک۔ماہی گیری اور دیگر پیداواری شعبوں کو فوکس کرنا ہوگا ان کا کہنا تھا کہ ان شعبوں پر سرمایہ کاری کرکے روزگار کے زیادہ مواقع پیدا کئے جاسکتے ہیں عام زمین داد آج بھی زراعت کے جدید اصولوں سے واقف نہیں عوام کو ٹیکس کے ثمرات نہیں مل رہے اسلئے وہ ٹیکس ادا کرنے سے گریز کرتے ہیں۔اخوت کے چیرمین ڈاکٹر امجد ثاقب نے سیمےنار سے آن لائن خطاب میں کہا کہ ماضی کی غلطیوں کو دہرانا نہیں چاہتے ترامیم جو ہوئی تعلیم۔صحت اور دیگر شعبوں کے حوالے سے کی گئی لیکن تعلیم سب سے اہم ہے اگر لوگوں کی معاشی حالت بہتر ہے تو بحران کے مواقع کم ہی پیدا ہوتے ہیں ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے اور بہتر نظام حکومت کی تشکیل اسیے کی جائے کہ ترقی میں ہر شخص کو حصہ ڈالنے کا موقع مل سکے۔جمہوریت کی کامیابی جواب دہی کے عمل میں ہے ہمارے ہاں حکومت کو لوگ اب بھی اپنا نہیں سمجھتے فرائض کی بجائے ہر ایک حق کا طلب گار نظر آتا ہے صوبائی حکومتوں کا فرض ہے کہ وہ امن وامان کو بہتر بنائے۔سےکرٹری صحت دوستےن جمالدےنی نے سےمےنار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کا ترقی میں براہ راست تعلق نہیں قانون میں کچھ ترامیم ہوئیں ہے سیاسی حکومتوں نے ماضی میں کئے جانے والے سمجھوتوں کو از سر نو تعین کیا معاشی ترقی اس وقت ہوتی ہے جب قدرتی وسائل انسانی وسائل اور پالسی سازی مناسب ہونا چاہیے اٹھارویں ترمیم میں این ایف سی کے فیصلے ترمیم کی وجہ سے نہیں بلکہ سیاسی فیصلوں کی وجہ سے ہوا۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ ثمرات نہیں ملیں گے بنیادی طور پر 15 وزارتوں کو صوبوں کے حوالے کیا گیا بعض وزاتیں اسی تھیں جن کو وفاق میں ضرورت ہی تھی البتہ صدر اور گورنرز کے اختیارات محدود ہوئے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button