اسلام آباد۔16جولائی :وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ پاکستان کا نام برطانیہ کی ایئر سیفٹی لسٹ سے نکالا جانا ایک اہم سنگ میل ہے، 2020 میں پی ٹی ائی حکومت کے وزیر ہوا بازی کے غیرذمہ دارانہ بیان کی وجہ سے پابندی لگی، یہ فعل ملک کے خلاف ایک جرم تھا جو نہ صرف غلام سرور خان سے سرزد ہوا بلکہ اس کی ذمہ داری اس وقت کے وزیراعظم پربھی عائد ہوتی ہے جس سے اربوں روپے کے نقصان کے ساتھ ساتھ قومی وقار بھی مجروح ہوا۔ اسلام اباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں قومی ہوا بازی کے شعبہ میں اج ایک اہم سنگ میل عبور ہوا ہے اور برطانیہ کی ایئرسیفٹی لسٹ سے پاکستان کا نام نکل گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پابندی پاکستان تحریک انصاف کے دور کے وزیر ہوا بازی غلام سرو ر خان کے ایک غیرذمہ دارانہ بیان سے لگی، اس کے پیچھے ان کا کیا مقصد کارفرما تھا انویسٹی گیشن صحافت سے وابستہ صحافیوں کو بھی چاہئے کہ وہ اس کی تحقیقات کریں کہ اس بیان سے قومی ایئرلائن کو کس قدرنقصان ہوا، پی ائی اے کا وقار مجروح ہوا، تارکین وطن یا ان کے لواحقین کی میتیں پاکستان انی تھیں جس پر انہیں دیگر ایئرلائنزکے ذریعے لاکھوں ڈالر خرچ کرنا پڑ جاتے ہیں اور اب وہاں تارکین وطن نے اپنے عزیزواقارب کی میتوں کی تدفین کے لئے وہاں بندوبست تو کرلیا ہے لیکن پی ائی اے کو عمران خان اور غلام سرور خان نے مل کر نقصان پہنچایا جس سے پی ائی اے متروک قسم کی ایئر لائن بن کر رہ گئی تھی، یہ سب کچھ کیوں اورکیسے ہوا یہ پتہ لگانا ہماری ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب جب یہ احسن قدم سامنے ایا ہے اور اپ ایئرلائنز کو اپریٹنگ لائسنس کے حصول کےلئے درخواست دے سکیں گے۔ وزیر دفاع نے کہا کہ برطانیہ اور یورپی یونین کا ہماری ایئر لائنز اور سول ایوی ایشن پراعتماد کا مظہر ہے کہ ہمارا نام ایئر سیفٹی کی پابندی لسٹ سے نکالا گیا ہے۔ وزیر دفاع نے کہا کہ اس اقدام پر میں برطانیہ اور یورپی یونین کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہوں،نادر ڈار ہماری سول ا یوی ایشن کے سربراہ ہیں، سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے اس مقصد کےلئے نیک نیتی اورخلوص کے ساتھ کام کرتے ہوئے رکاوٹوں کو دور کیا اور یہ سلسلہ جاری رہا اور اج ہمیں یہ اچھی خبرسننے کو ملی ہے، سابقہ سیکرٹریز نے بھی ایئرسٹینڈرڈ سیفٹی کے معیارات کو پورا کرنے کےلئے دن رات محنت کی اور پوری دنیا میں ہماری ایئرلائن کی صنعت پر اعتماد بحال ہوا ہے۔ وزیر دفاع نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ ہم کوشش کررہے ہیں کہ امریکہ کےلئے پروازوں کی اہلیت کو پورا کرتے ہوئے اس ساکھ کو بحال کریں جس پر پابندی نہیں تھی لیکن پی ٹی ائی کے اس اقدام سے یہ ساکھ متاثر ہوگئی تھی۔وزیر دفاع نے کہا کہ اگلے مرحلہ میں پی ائی اے کی نجکاری کرنے جارہے ہیں ، تمام انٹرنیشنل روٹس بحال کرکے جب نجکاری ہوگی تو اس کی ویلیو بڑھے گی اور حکومت کو زیادہ فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ اور یورپی ریگولیٹرز کے بھی شکرگزار ہیں جنہوں نے تین سال کے عرصہ میں ہماری رہنمائی کی جس کی بدولت ہم نے تمام سٹینڈرز پورے کئے، پی ڈی ایم کی ایک سالہ حکومت اور وزیراعظم کی قیادت میں موجودہ حکومت کے اس عرصہ میں وزارت سول ایوی ایشن کو دوبارہ وزارت دفاع میں شامل کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بطور وزیر دفاع میرا بھی ای تجربہ ہے کہ جو بھی ایئرلائن لے گااسے بنی بنائی عمارت کھڑی ملے گی، پی ائی اے کے ساتھ قوم کا جذباتی لگاﺅ ہے اور اس کا کرایہ بھی کم ہے۔ وزیر دفاع نے ملک وقوم اور پی ائی اے کو مبارکباد دی کہ جس طرح یہ خوشی کی خبرملی ہے یہ ہمارے لئے ایک یادگار دن ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس سارے عرصہ میں بحالی کےلئے ایئرسیفٹی انسپکشنز مکمل کرائی گئیں اور یہ عمل جاری تھا اب جب ہمیں کلیئرنس مل گئی ہے، اب ہم زیادہ بہتر انداز میں تحقیقات کراسکتے ہیں،نئے جہاز ائیں گے اور پرائیویٹ سیکٹر موجودہ بیڑے کو اپ گریڈ کرے گا تو اس کا کاروبار بھی بڑھے گا، اس لمحہ پر ہمیں اس خوشی کومنانا چاہئے، حکومت چاہے گئی تو اس کی وقت انے پر انکوائری کرائے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ فوجی فرٹیلائزر اور ایئربلیو کے علاوہ 4 گروپس نے بھی نجکاری کے عمل کے لئے خواہش کا اظہار کیا ہے۔
Related Articles
ڈپٹی کمشنر استا محمد عبدالرزاق خجک نے کہا ہے کہ ممکنہ مون سون بارشوں کے پیش نظر تمام محکمے پیشگی اقدامات کو فوری طور پر حتمی شکل دیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے مؤثر طریقے سے نمٹا جا سکے
June 18, 2025
Check Also
Close
-
وزیراعلیٰ پنجاب کی باکسر محمد وسیم کو فائٹ جیتنے پر مبارکبادNovember 23, 2019



