
لاہور ( سپورٹس رپورٹر) قومی وکٹ کیپر بیٹسمین محمد رضوان نے بیٹنگ پوزیشن کی تبدیلی کو کیریئر کا ٹرننگ پوائنٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بدقسمتی سے انٹرنیشنل کیریئر کی ابتدا میں وہ اپنی صلاحیتوں کا بہتر اظہار نہیں کر سکے مگر جب نئی ٹیم انتظامیہ نے ان کو بیٹنگ آرڈر میں ترقی دینے کا فیصلہ کیا تو وہ ایک نئے روپ میں سامنے آئے ۔پی سی بی ڈیجیٹل پر گفتگو کے دوران محمد رضوان کا کہنا تھا کہ سابق اور حالیہ کرکٹرز کی تجاویز اور مشورے بھی مددگار ثابت ہوئے جن میں محمد حفیظ،مشتاق احمد اور شاہد آفریدی شامل تھے جبکہ ایک مرتبہ رمیز راجہ کا نیٹ کے قریب سے گزرتے ہوئے ’’ہیڈ سٹل‘‘رکھنے کا مشورہ بھی کارآمد ثابت ہوا ورنہ عالمی کرکٹ کے آغاز پر کوئی یقین بھی نہیں کر سکتا تھا کہ محمد رضوان بڑے چھکے لگا سکتا ہے البتہ ان کی بے پناہ محنت کارآمد ثابت ہوئی۔وکٹ کیپر بیٹسمین کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس انگلش ٹور سے قبل بھی انہوں نے اپنی بیٹنگ اور وکٹ کیپنگ پر سخت محنت کی تھی کیونکہ مشکل کنڈیشنز میں سرخ بال تاخیر سے سوئنگ ہوتی ہے جس کو قابو کرنے کیلئے اضافی محنت لازمی ہے مگر سفید بال کے میچوں کیلئے انگلش ماحول سازگار ہوتا ہے جہاں وکٹ پر قیام کے لحاظ سے سکور میں اضافہ ممکن ہو جاتا ہے اور یہی چیزیں سیکھنے کے بعد وہ حالیہ سیریز میں بھی ان کو آزمانا چاہیں گے ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹیسٹ کرکٹ وکٹ کیپر بیٹسمین سے بہادری اور مستقل مزاجی مانگتی ہے اور تینوں فارمیٹس کیلئے سپر فٹ ہونا ہی پڑتا ہے ۔




