بیشتر افراد کی قرنطینہ مدت ختم، اسلام آباد یونائیٹڈ کے کھلاڑی ٹریننگ کیلئے میدان میں داخل

کراچی ( اسپورٹس ڈیسک ) پاکستان سپر لیگ سیزن سکس کے باقی میچوں کیلئے ابتدائی دو چارٹرڈ فلائٹس سے ابوظبی پہنچنے والے بیشتر افراد کی قید تنہائی کا خاتمہ ہوگیا جن کو کمروں سے باہر نکلنے اور ہوٹل کے مخصوص ایریا میں جانے کی اجازت مل گئی جن کی نگرانی کیلئے ٹریکنگ ڈیوائس کا استعمال کیا جائے گا جبکہ اسلام آباد یونائیٹڈ کے کھلاڑی میدان میں داخل ہو گئے جنہوں نے ہلکی پھلکی جسمانی ورزشوں سے ٹریننگ کا آغاز کردیاجبکہ لاہورقلندرز کی پریکٹس بھی شروع ہوگئی، پروٹوکولز کی خلاف ورزی پر سخت اقدام کے امکان کے باوجود پی ایس ایل سکس کے باقی میچوں کا شیڈول ہنوز منظر سے غائب ہے البتہ متبادل مقام کیلئے شارجہ کرکٹ اسٹیڈیم اب بھی قابل غور ہے ۔تفصیلات کے مطابق پی ایس ایل سکس کے باقی میچوں کیلئے دو چارٹرڈ فلائٹس سے ابوظبی پہنچنے والے 150 سے زائد افراد کی گزشتہ روز صبح کوویڈ ٹیسٹنگ کے بعد دوپہر کو قرنطینہ کی سات روزہ مدت بھی ختم ہو گئی اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے علاوہ لاہورقلندرزنے بھی شیخ زید اسٹیڈیم میں داخل ہو کر ہلکی پھلکی ورزشوں سمیت ٹریننگ کا آغاز کردیا۔ آئسولیشن کی تکمیل کے بعد کھلاڑیوں اور دیگر افراد کو کمروں سے باہر نکلنے اور ہوٹل کے مخصوص ایریاز میں جانے کی اجازت حاصل ہوگی تاہم طے شدہ قوانین کی خلاف ورزی پر سخت اقدامات کی وارننگ بھی دے دی گئی ہے ۔پی ایس ایل میں شامل تمام کرکٹرز اور آفیشلز پر نگاہ رکھنے کیلئے ٹریکنگ ڈیوائس ابوظبی پہنچ گئی ہیں جو ہوٹل سے باہر جانے والوں کو ہمہ وقت ساتھ رکھنی ہوں گی جن کے سہارے ابوظبی کا ہیلتھ ڈپارٹمنٹ اور دیگر متعلقہ حکام ان تمام افراد کی نگرانی کر سکیں گے جن کو پی ایس ایل سکس کیلئے ابوظبی آنے کی اجازت دی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق ٹریکر کے استعمال کی بدولت مخصوص علاقے سے باہر جانے والے کسی بھی شخص کے بارے میں فوری علم ہو سکے گا کہ اس کی نقل و حرکت کیا رہی جبکہ خلاف ورزی کی صورت میں سخت اقدام بھی کیا جا سکتا ہے ۔واضح رہے کہ آئسولیشن ختم ہونے کے باوجود ایونٹ کا شیڈول بدستور منظر سے غائب ہے تاہم ذرائع کے مطابق گزشتہ روز پی سی بی کے ڈائریکٹر انٹرنیشنل ذاکر خان نے شارجہ اسٹیڈیم کا دورہ کیا جس کے بعد گراؤنڈ میں گھاس کاٹنے کا عمل بھی شروع کردیا گیا جس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ شارجہ ہنوز متبادل مقام کے طور پر قابل غور سمجھا جا رہا ہے۔




