یونیورسٹی آف تربت میں جدید سائنسی علوم، مصنوعی ذہانت اور انسانی تخلیقی صلاحیتوں پر انٹرایکٹو سیشن کا انعقاد
تربت، 02 اکتوبر 2025: یونیورسٹی آف تربت میں جدید سائنسی علوم، مصنوعی ذہانت اور انسانی تخلیقی صلاحیتوں کے موضوع پر ایک انٹرایکٹو سیشن کا انعقاد کیا گیا، جس میں نامور نیوکلیئر طبیعیات دان، ماہر تعلیم، مصنف اور قائداعظم یونیورسٹی کے سابق پروفیسر ڈاکٹر پرویز ہودبھائی نے خصوصی خطاب
کیا۔
وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن کی دعوت پر منعقدہ اس سیشن میں ڈاکٹر ہودبھائی نے فیکلٹی ممبران اور طلبہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے معیاری تعلیم، اعلیٰ تحقیق اور جدت ناگزیر ہیں۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ محنت اور لگن سے تعلیم حاصل کریں اور تعلیم کو صرف ملازمت کے حصول کا ذریعہ نہ سمجھیں بلکہ اسے ذہانت، تجسس اور تخلیقی صلاحیتوں کو ابھارنے کا وسیلہ بنائیں۔
ڈاکٹر ہودبھائی نے انٹرنیٹ، مصنوعی ذہانت، ہسٹروفزکس، کوانٹم کمپیوٹنگ، انسانی تخلیقی صلاحیت اور عقل و شعور جیسے موضوعات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے نوجوانوں میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے، ضرورت صرف ان کو درست رہنمائی اور مواقع فراہم کرنے کی ہے۔
سیشن کے دوران طلبہ اور اساتذہ نے سوالات کیے جن کے تفصیلی اور مدلل جوابات ڈاکٹر ہودبھائی نے دیے۔ سیشن کے اختتام پر ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر
حنیف الرحمان نے وائس چانسلر کی جانب سے ڈاکٹر پرویز ہودبھائی کو یادگاری شیلڈ پیش کی اور ان کا شکریہ ادا کیا۔
اس سے قبل ڈاکٹر ہودبھائی نے وائس چانسلر ڈاکٹر گل حسن سے ان کے چیمبر میں ملاقات کی، جہاں رجسٹرار گنگزار بلوچ، اسسٹنٹ پروفیسر جمیل احمد بادینی، ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز اعجاز احمد اور چیف سیکیورٹی آفیسر شاہد عیسیٰ بھی موجود تھے۔ وائس چانسلر نے انہیں یونیورسٹی کی تعلیمی و تحقیقی سرگرمیوں، انفراسٹرکچر کی ترقی، مستقبل کے منصوبوں اور درپیش چیلنجز کے بارے میں بریفنگ دی۔
بعد ازاں ڈاکٹر پرویز ہودبھائی نے یونیورسٹی کے مختلف حصوں کا معائنہ کیا، جن میں لائبریری، کمپیوٹر اور کیمسٹری لیبارٹریاں اور کلاس رومز شامل تھے، اور طلبہ سے تبادلہ خیال بھی کیا۔
Comments are closed.