1500ویں میلاد اور 50 ویں سیرت النبی   کانفرنس کی مناسبت سے تقریبات

15

ایس۔کے۔ سمیع

میلاد النبی  اور سیرت النبی  کانفرنسیں محض روایتی اجتماعات نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے لیے اپنے ایمان کو تازہ کرنے، اپنی فکر کو سنوارنے اور اپنے کردار کو نکھارنے کے مواقع ہوتے ہیں۔ اس سال جب میلاد النبی کے 1500 سال مکمل ہو رہے ہیں اور ساتھ ہی سیرت النبی ﷺ کانفرنس کا پچاسواں انعقاد عمل میں آ رہا ہے تو یہ دوہری نسبت ہماری دینی و اجتماعی زندگی میں بے پناہ معنویت رکھتی ہے۔

یہ تقریبات دراصل اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ رسول اکرم  کی ولادت سے دنیا میں جو انقلاب برپا ہوا وہ قیامت تک انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ سیرت طیبہ  میں ہمیں امن، اخوت، برداشت، مساوات اور خدمتِ خلق جیسے روشن اصول ملتے ہیں۔ آج کے دورِ انتشار میں ان اصولوں کو اجاگر کرنا اور اپنی نئی نسل کو ان سے روشناس کرانا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔

ان تقریبات کے ذریعے ملک بھر سے علما، دانشور، محققین اور عوام الناس کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جاتا ہے تاکہ حضور اکرم  کی حیاتِ طیبہ کے مختلف پہلوؤں پر سیر حاصل گفتگو ہو سکے۔ ان مجالس میں نوجوانوں کو خاص طور پر یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ حقیقی ترقی اور کامیابی صرف اسی وقت ممکن ہے جب ہم حضور اکرم  کے اسوہ حسنہ کو اپنی زندگیوں کا عملی حصہ بنا لیں۔

یہاں یہ پہلو بھی قابلِ ذکر ہے کہ جب ہم 1500 ویں میلاد اور 50 ویں سیرت النبی  کانفرنس جیسے سنگ میل مناتے ہیں تو یہ موقع ہمیں اجتماعی محاسبے کی طرف بھی متوجہ کرتا ہے۔ ہمیں اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا جائزہ لینا چاہیے کہ کیا ہم اپنے معاملات میں انصاف، دیانت داری، اخوت اور محبت کو اپنا رہے ہیں یا نہیں۔ یہی وہ اصول ہیں جن پر اسلامی معاشرہ تعمیر ہوا اور جنہیں چھوڑ دینے سے ہم زوال کا شکار ہوئے۔

ان تقریبات کا اصل مقصد صرف جذباتی نعروں یا وقتی جوش و خروش میں محدود ہونا نہیں بلکہ عملی تبدیلی کی طرف بڑھنا ہے۔ جب تک ہم اپنے قول و فعل میں حضور  کی تعلیمات کو زندہ نہیں کرتے، تب تک محافل اور اجتماعات اپنی حقیقی روح کے ساتھ مؤثر نہیں ہو سکتے۔

یوں یہ تقریبات نہ صرف مذہبی جوش و خروش کا اظہار ہیں بلکہ ایک اجتماعی عہدِ نو کی علامت بھی ہیں، جو ہمیں حضور اکرم  کے پیغامِ امن، محبت اور انسانیت کے ساتھ دنیا کے سامنے سرخرو کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ اس موقع پر یہ عہد کرنا ہی اصل کامیابی ہے کہ ہم اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کو سیرت النبی  کے مطابق ڈھالیں اور دنیا کو یہ پیغام دیں کہ اسلام سراپا امن، رحمت اور خیرخواہی ہے۔

Comments are closed.