گورنر اسٹیٹ بینک نے پاکستان ٹیکسٹائل کونسل کے سالانہ اجلاس میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی – پی ٹی سی نے پالیسی تعاون پر زور دیا، گورنر اسٹیٹ بینک نے معاشی استحکام کو سراہا

14

کراچی — پاکستان ٹیکسٹائل کونسل   نے اپنا سالانہ اجلاس کراچی میں منعقد کیا، جس میں ملک کے نمایاں ٹیکسٹائل برآمدکنندگان، پالیسی سازوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔ اجلاس کے مہمانِ خصوصی، گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جناب جمیل احمد نے تفصیلی خطاب میں پاکستان کی مجموعی معیشت میں ہونے والی پیش رفت پر روشنی ڈالی۔ پی ٹی سی کی قیادت اور اراکین نے برآمدی مسابقت کو مضبوط بنانے کے لیے فوری پالیسی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

معاشی استحکام اور بیرونی شعبے میں بہتری

گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا کہ پاکستان نے 2022ء کے بعد بے مثال معاشی چیلنجز پر قابو پایا ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر جو اوائل 2023ء میں 2.8 ارب ڈالر رہ گئے تھے، بڑھ کر 14.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ نمایاں طور پر کم ہوا ہے جبکہ ترسیلات زر مالی سال 2025ء میں 38 ارب ڈالر سے زائد ہوگئیں، جو بڑی حد تک غیر رسمی سے رسمی چینلز میں منتقل ہوئیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ افراطِ زر جون 2025ء تک کم ہو کر 3.2 فیصد کی تاریخی سطح پر آگیا ہے، جس کے نتیجے میں اسٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ 22 فیصد سے کم کر کے 11 فیصد کردیا۔ مالیاتی نظم و ضبط، ایکسچینج کمپنیوں میں اصلاحات اور بیرونی قرضوں میں استحکام نے مارکیٹ کے اعتماد کو بحال کیا ہے۔

گورنر نے کہا: “پاکستان کی معیشت اب زیادہ مستحکم بنیاد پر کھڑی ہے۔ مالی سال 2026ء میں شرح نمو 3.25 تا 4.25 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ ہمارا عزم ہے کہ استحکام برقرار رکھا جائے، ذخائر میں اضافہ کیا جائے اور افراطِ زر کو 5 تا 7 فیصد کے ہدف کے اندر رکھا جائے۔”

پی ٹی سی قیادت: برآمدی مسابقت کو مرکزی حیثیت حاصل ہونی چاہیے

پی ٹی سی کے چیئرمین جناب فواد انور نے گورنر کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو فوری طور پر وہ ساختی رکاوٹیں دور کرنی ہوں گی جو برآمدکنندگان کو متاثر کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا: “اگرچہ معیشت مستحکم ہورہی ہے مگر کاروبار کرنے کی لاگت اب بھی غیر مسابقتی ہے۔ ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم (EFS) سے اہم خام مال کو خارج کرنے نے برآمدکنندگان پر غیر ضروری بوجھ ڈال دیا ہے، جبکہ عالمی منڈی اس وقت پاکستان کے لیے مارکیٹ شیئر حاصل کرنے کا نادر موقع فراہم کرتی ہے۔”

جناب فواد انور نے کونسل کے مطالبات دہرائے:

EFS سے خارج خام مال پر درآمدی ڈیوٹیز ختم کی جائیں، اور سیلز ٹیکس 3 تا 5 فیصد تک محدود اور مکمل ریفنڈ ایبل ہو۔

تمام برآمدکنندگان کے لیے یکساں 1 فیصد ڈیوٹی ڈرا بیک اسکیم۔

بڑھتی اجرت اور توانائی کی لاگت پورا کرنے کے لیے سبسڈی شدہ فنانسنگ سہولیات فراہم کی جائیں۔

انہوں نے مزید کہا: “ٹیکسٹائل اور ملبوسات پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ یہ وقت ہے کہ جراتمندانہ پالیسی اقدامات کیے جائیں تاکہ ہماری صنعت عالمی منڈی میں طویل المدتی شیئر حاصل کرسکے اور مقابلے میں پیچھے نہ رہ جائے۔”

اجلاس کے اختتام پر اتفاق ہوا کہ ٹیکسٹائل برآمدات کو پاکستان کی معاشی بحالی کی حکمتِ عملی کا مرکز ہونا چاہیے۔ پی ٹی سی اور اسٹیٹ بینک نے پالیسی مکالمہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا، بالخصوص قابلِ تجدید توانائی اور برآمدی کریڈٹ کے لیے آسان فنانسنگ اسکیمز پر، تاکہ پاکستان کے برآمدکنندگان عالمی منڈی میں مسابقت برقرار رکھ سکیں۔

Comments are closed.