اوستہ محمد: لاکھوں کے بجٹ کے باوجود صفائی کا فقدان، بلدیاتی نمائندے غائب؟ سرکردہ محمد صدیق عمرانی۔

16

اوستہ محمد ۔۔۔
(رپورٹ: محمد یونس عمرانی)

میونسپل کارپوریشن اوستہ محمد کو ہر ماہ تقریباً 43 لاکھ روپے کنٹیجینسی بجٹ فراہم کیا جاتا ہے، لیکن شہر کی حالت زار دیکھ کر یہ سوال جنم لیتا ہے کہ آخر یہ بجٹ کہاں خرچ ہو رہا ہے؟ گلیوں، محلوں اور تعلیمی اداروں کے اطراف گندگی کے ڈھیر، بدبو اور تعفن معمول بن چکا ہےخصوصاً گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول عمرانی گلی کے مرکزی دروازے کے سامنے کچرے کے ڈھیر معصوم طالبات کے لیے خطرے کی گھنٹی بن چکے ہیں۔ والدین میں شدید تشویش پائی جاتی ہے، جبکہ متعدد بار شکایات کے باوجود کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔بلدیاتی نمائندوں کی کارکردگی بھی سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔ سرکردہ محمد صدیق عمرانی کا کہنا ہے کہ منتخب چیئرمین، وائس چیئرمین، کونسلرز اور دیگر بلدیاتی ذمہ داران اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہیں، اور شہر کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کے بجائے صرف بیانات تک محدود ہیں۔اس صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے اوستہ محمد کے معروف سیاسی و سماجی رہنما محمد صدیق عمرانی کا مذید کہنا تھا کہ یہ لمحہ فکریہ ہے کہ لاکھوں روپے کے بجٹ کے باوجود شہری بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ اسکولز کے باہر گندگی، گلیوں میں کچرا اور صفائی کے ناقص انتظامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ بلدیاتی ادارے اور میونسپل کارپوریشن صرف نام کے رہ گئے ہیں۔”انہوں نے اعلیٰ حکام، بالخصوص ڈپٹی کمشنر اوستہ محمد سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری ایکشن لیتے ہوئے میونسپل کارپوریشن کی کارکردگی کا جائزہ لیں اور کرپشن و غفلت میں ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائےانہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر بلدیاتی نمائندے خاموش تماشائی بنے رہے تو عوام آئندہ انتخابات میں ان کا سخت احتساب کریں گے۔

Comments are closed.